وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ عدالتی معاون کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بیماری کی ٹائم لائن میں بہت تضاد ہے۔ایک انٹرویو میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تحریری حکم کے بغیر نہ میڈیکل بورڈ تشکیل دے سکتے ہیں اور نہ ہی نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز یا ذاتی معالجین کو چیک اپ کے لئے بھیج سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت صرف سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ بنا سکتی ہے اور اس بورڈ پر بھی پی ٹی آئی نے سیاست کرنی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی