i پاکستان

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس میں پی ٹی آئی کا دھرنا پانچویں روز میں داخل،ہائو س کے باہر بھی احتجاج دوبارہ شروعتازترین

February 17, 2026

اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور اتحادیوں کے اراکین پارلیمنٹ کا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہوگیا جبکہ مظاہروں کے باعث پشاور-اسلام آباد اور ایم-14 موٹرویز مختلف مقامات پر بند ہوگئی ہے ۔وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومت نے کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے مطالبات میں رپورٹ تھی ہی نہیں، ہمارے مطالبات یہ تھیکہ بانی پی ٹی آئی کو ذاتی ڈاکٹر اور فیملی سے ملنے دیا جائے۔ بانی پی ٹی آئی کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ وہ ذاتی ڈاکٹر سے علاج کروائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت ذاتی معالج کی اجازت نہ دے کر کیا چھپا رہی ہے؟سہیل آفریدی نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیاکہ خیبرپختونخوا میں مختلف مقامات پر عوام نے خود سے دھرنے دے رکھے ہیں، پی ٹی آئی یا اپوزیشن اتحاد نے پارلیمنٹ اورکے پی ہائو س کے علاوہ کہیں دھرنے کی کال نہیں دی۔سہیل آفریدی نے بتایاکہ پی ٹی آئی میں فیصلوں کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے۔ محمودآچکزئی اور راجاناصرعباس کی کال پرہم یہاں بیٹھے ہیں۔

علیمہ خان سے متعلق بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی بولے علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں ان کا پی ٹی آئی یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، علیمہ خان کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔ادھر خیبرپختونخوا ہائو س کے باہر بھی احتجاج دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز دھرنے میں شیر افضل مروت کی انٹری نے سب جو چونکا دیا، جبکہ وزیرِاعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شیر افضل مروت کو دیکھ کر کرسی چھوڑ کر چلے گئے۔اپوزیشن قیادت کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال میں مکمل طبی سہولتوں کی فراہمی اور ان کی فیملی و ذاتی معالج سے ملاقات تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ اس دوران دھرنے میں شیرافضل مروت کی آمد پر صورتِحال میں اچانک کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ شیر افضل کی انٹری پر وزیراعلی سہیل آفریدی اپنی کرسی سے اٹھ کر چلے گئے۔شیرافضل مروت نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ صرف علی امین گنڈاپور سے ملنے آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو دوستی نبھانا جانتے ہیں اور بڑے عہدے انسان کو بڑا نہیں بناتے بلکہ بڑا ظرف انسان کو بڑا بناتا ہے۔

دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے باعث پشاور-اسلام آباد(ایم ون) اور ہاکلہ-ڈی آئی خان (ایم۔ 14) موٹرویز مختلف مقامات پر بند ہیں۔این ایچ ایم پی کے مطابق، پشاور سے اسلام آباد کی جانب جانے والی ایم ون موٹروے صوابی انٹرچینج سے برہان انٹرچینج تک دونوں اطراف کی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند ہے جبکہ مردان-رشکئی انٹر چینج بھی بلاک ہے۔ حکام کی جانب سے لوگوں کو جی ٹی روڈ کا متبادل راستہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ایم۔ 14 موٹروے، جسے سی پیک کا مغربی روٹ بھی کہا جاتا ہے، حکام کے مطابق ڈی آئی خان کے نزدیک یارک انٹرچینج سے سی پیک انٹر چینج عیسی خیل تک بلاک ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب جانے والی موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا دے کر راستہ بند کر دیا تھا۔ موٹروے کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان سے پنجاب کی طرف جانے والے راستوں بھکر روڈ، قریشی موڑ، چشمہ روڈ اور سی پیک روڈ پر بھی دھرنے شروع کر دئیے تھے جو پی ٹی آئی کے مطابق تاحال جاری ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی