i پاکستان

اسٹیلشمنٹ اور حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل آفر نہیں کی اور نہ کبھی ہوگی، رانا ثنااللہتازترین

February 20, 2026

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اسٹیلشمنٹ اور حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل آفر نہیں کی ، نہ ڈیل ہوئی اور نہ ہوگی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس بات پر بیٹھے ہیں کہ آپ یہاں آکر بیٹھ جائیں مجھے وہاں بٹھادیں، میں نے جو بات کہی ہے وہی عطاتارڑ نے کہی ہے، 24 نومبر کو پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بات ہوئی تھی ، اس بات کو ڈیل کاد رجہ دیاجائے تو وہ علیحدہ بات ہے۔راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ 24 نومبر کو جو بات ہوئی اس کی تردید محسن نقوی نے بھی نہیں کی ،فیصل واوڈا کے الفاظ اپنے ہیں انھوں نے بات کو ذرا سا بڑھا چڑھا دیا ہے۔وزیراعظم کے مشیر نے واضح کہا اسٹیلشمنٹ اور حکومت نے کوئی ڈیل آفر نہیں کی ،نہ ہوئی اور نہ ہوگی ، وزیراعظم تو ان کو تین بار مذاکرات کی آفر کرچکے ہم تیار ہیں یہ بیٹھیں۔انھوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پاکستان کے لئے بیٹھنے کو تیار ہیں، بانی پی ٹی آئی اگر پاکستان کے لئے بیٹھنے کو تیار ہیں تو آئیں بیٹھیں ،آئیں دہشت گردی کے خاتمے اورمعاملات کو حل کرنے کیلئے بیٹھیں۔راناثنا نے مزید کہا کہ نومبر میں یہ طے ہوگیا تھا کہ اسلام آباد کا گھیرا یا ڈی چوک نہیں جائیں گے اور یہ طے ہوگیا تھا کہ سنگجانی جاکر بیٹھیں گے

اس کی تصدیق علی امین گنڈاپور سے کرالیں ، محسن نقوی بھی تائید کریں گے کہ بانی نے اتفاق کیا پھر دوسری سوچ ان کو آئی تو انکار کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بشری بی بی نے کہا کہ ہمیں ڈی چوک ہی جانا ہے ،محسن نقوی اسوقت بات کررہیتھے لیکن اسپیکر قومی اسمبلی بھی آن بورڈ تھے ، میں بھی ایک دو میٹنگ میں تھا ، اسدقیصر ،بیرسٹرگوہر ،عامر ڈوگربھی موجود تھے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی کی آنکھ کامعاملہ آیا تو پی ٹی آئی کی قیادت ہم سے رابطے میں رہی ہے اس کو ڈیل نہیں کہہ سکتے، بانی کی آنکھ کا علاج طریقہ کار کے تحت ہوا اب وہ کہتے ہیں ہماری تسلی کے مطابق نہیں ہوا۔انھوں نے بتایا کہ محسن نقوی ہماری کابینہ کا حصہ ہیں وہ ممبر ہیں ، بانی کے علاج کے معاملے پرمحسن نقوی کی علی امین یا سہیل آفریدی سے ہورہی تھی ، بانی کے علاج کے حوالے سے ان کے رہنمائو ں کی میٹنگ ہمارے ساتھ ہورہی تھیں ، یہ بات میں نے اور لوگوں نے میٹنگ میں بھی کی کہ ملاقاتوں سے سیاست بند کریں۔راناثنا کا کہنا تھا کہ بانی سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا پر کمنٹری اور ٹوئٹس بند کریں ، ریاست یا اداروں کیخلاف بیانیہ بند کریں تو ملاقاتوں کا مسئلہ حل ہوسکتاہے، بانی سے ملاقاتوں کے لئے ان سے کچھ بات کی جائے تو اسے ڈیل تونہیں کہا جاسکتا۔

انھوں نے انکشاف کیا ملاقاتوں کا مسئلہ حل ہونے کو تھا توعظمی خان نے ملاقات کے بعد بات کی پھر ٹوئٹ ہوا تومعاملہ خراب ہوا۔رہائی فورس کے حوالے سے سیاسی مشیر نے کہا کہ رہائی فورس کو میں 8فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی ناکام کال کی طرح دیکھتاہوں ، 8 فروری کی کال کی طرح رہائی فورس مکمل فیلئر ہے ان کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، کوئی فورس نہیں ہوگی یہ چاہتے ہیں کسی نا کسی طرح لوگوں کو ابہام میں رکھاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں 8 فروری کی کال سے ان کو سیاسی طور پر بہت نقصان پہنچا ہے ، یہ جو ملک کو مزید نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اس میں یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔انھوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی اور وزیراعظم کی ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا ، محموداچکزئی اور وزیراعظم جب بھی اسمبلی اجلاس میں آئے تو ضرور ملاقات ہو جائے گی، قومی اسمبلی کے اگلے سیشن سے پہلے بھی محموداچکزئی اور وزیراعظم کی ملاقات ہوسکتی ہے، ملاقات پہلے بھی ہوسکتی ہے اس میں کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی