وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہنگامی ردعمل کے نظام میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،انہوں نے ہائی رسک عمارتوں میں فوری اصلاحی اقدامات یقینی بنانے اور تمام ایمرجنسی اداروں کو ایک متحد اور خودمختار اتھارٹی کے تحت لانے کی ہدایت دی ہے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں ہنگامی خدمات کے نظام کو مزید مثر اور جامع بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، ضیا الحسن لنجار، گیان چند اسرانی اور میئر کراچی مرتضی وہاب سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہنگامی خدمات کی جدید کاری کے لیے 30.8 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی منظوری دی گئی، جس میں ریسکیو 1122 کا انضمام، جدید فائرفائٹنگ آلات کی خریداری، نئی فائر اسٹیشنز کا قیام، 100 فائر ٹرکس، اسنارکلز، ایریل سیڑھیاں، ڈرونز، فائربائیکس اور آل ٹیرین گاڑیاں شامل ہیں۔ وزیراعلی کو بریفنگ دی گئی کہ صوبے بھر میں 122 ٹیموں کے ذریعے فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا اور 3340 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا جو ابتدائی ہدف سے زیادہ ہے، فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرنے والی عمارتوں کی شرح 43 فیصد تک پہنچ گئی
جبکہ ہائی رسک عمارتوں کی تعداد 33 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 3000 سے زائد نوٹسز جاری کیے گئے اور متعدد خطرناک عمارتیں سیل بھی کی گئیں۔ اجلاس میں ہنگامی خدمات میں اصلاحات کی سفارشات بھی پیش کی گئیں، جن میں ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے کو نئی اتھارٹی کے عملی بازو کے طور پر کام کرنے کی تجویز شامل تھی، سول ڈیفنس، ایمرجنسی ہیلتھ اور معاوضہ نظام کو بھی ایک چھتری تلے لانے کی سفارش کی گئی، جس کی منظوری وزیراعلی سندھ نے دے دی۔ وزیراعلی نے کہا کہ جدید ایمرجنسی نظام سے شہریوں کا تحفظ، اداروں میں ہم آہنگی اور ردعمل کے اوقات میں نمایاں بہتری آئے گی، انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت پیشہ ورانہ ہنگامی نظام کے قیام کی جانب پیش رفت کر رہی ہے اور ہر قسم کی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک جدید اور مربوط صلاحیت بنائی جائے گی۔ ادارہ جاتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریسکیو 1122 اکیڈمی کے قیام اور عملے کی تربیت پر توجہ دی جائے گی، نئی اتھارٹی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے جامع قانون سازی کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی