ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم مکمل کامیابی ابھی باقی ہے،انہوں نے اسلام آباد کے دورے کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کے ساتھ مثبت مشاورت ہوئی، پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان تعاون اہمیت کا حامل ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے روس کے دورے پر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔عباس عراقچی نے کہا ماضی میں مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکا کی غلط پالیسیاں اور حد سے زیادہ مطالبات تھے، جنہوں نے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں میں ماضی کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ مذاکرات کے طریقہ کار اور ممکنہ شرائط پر بھی بات چیت کی گئی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا ایران اور ماسکوکے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے مقصد سے روس آیا ہوں ۔ روسی حکام کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی ملاقاتوں کا ایجنڈا کئی اہم امور پر مشتمل ہے۔ان کا کہنا تھا روسی صدرسے ملاقات جنگ کی پیشرفت اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کا اچھا موقع ہوگا، یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی خاص اہمیت کی حامل ہوگی۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان کا دورہ بہت مفید رہا، دورہ اسلام آباد میں حکام کے ساتھ مثبت مشاورت ہوئی، دورہ اسلام آباد میں حکام نے ماضی کے واقعات اور ان مخصوص حالات کا جائزہ لیا جن کے تحت ایران امریکا مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔عباس عراقچی نے بتایا کہ دورہ عمان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز پر بات چیت ہوئی، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں اس لیے باہمی مشاورت ناگزیر ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس گزرگاہ سے محفوظ آمد و رفت ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہونے کے ناطے باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے بات چیت کرنا فطری ہے، دو ساحلی ممالک کے ناطے ہمیں ہرممکن اقدام میں ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے، دونوں کے مفادات اسی میں ہیں۔عراقچی نے مزید کہا کہ ماسکو کے ساتھ اس دورے کے دوران ایک وقفے کے بعد مشاورت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر بات ہوگی۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ روسی حکام کے ساتھ ملاقاتیں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کا اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا، ساتھ ہی علاقائی امور، خاص طور پر خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی معاملات کو آگے بڑھانے پر بات ہوگی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ ان کے حالیہ دورے کا تسلسل ہے جس میں پاکستان اور سلطنتِ عمان شامل تھے، جہاں مذاکرات کی تازہ صورتحال اور مشترکہ امور پر بات چیت کی گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق مسقط کے ساتھ تکنیکی مشاورت بھی جاری ہے۔عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان قریبی تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا ایران اور عمان کے درمیان اعلی سطح کا اتفاق پایا جاتا ہے، دونوں ممالک متفق ہیں کہ ماہرین کی سطح پر بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی