i پاکستان

افغان طالبان رجیم کیخلاف پاک افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ، 133 طالبان ہلاک، ٹینک، توپ خانے، چوکیاں اوربکتر بند گاڑیاں تباہتازترین

February 27, 2026

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے، پاک افواج کے حملوں میں افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے، 27 افغان چوکیاں مکمل تباہ کر دی گئیں۔افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر میں بھرپور جواب دیا، چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو تباہ کردیاگیا۔سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی میں 3 افغانی بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر مکمل تباہ اور اسلحہ ڈپو کو راکھ کا ڈھیر بنادیا۔ موثر جوابی کارروائی میں 80 سے زائد ٹینک، توپ خانے اور بکتربند گاڑیاں تباہ ہوگئیں ۔پاک افغان سرحد پر مہمند میں گرسال سیکٹر میں پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹیں تباہ کردیں، پاک افغان سرحد پرولی خان سیکٹر میں پاک فوج نے افغان پوسٹ کو مسمار کردیا جبکہ پاک فوج کی اب تک 133 افغان طالبان ہلاک جبکہ200 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے انگور اڈہ سیکٹر میں افغان پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچایا، افغان چارلی پوسٹ اور افغان بابری پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کیں اور افغان صوبے پکتیکا کی پوسٹ پربھی قبضہ کرلیا، پاک فوج کی کارروائی پر افغان طالبان پوسٹ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے جبکہ پاک فوج نے پکتیکا میں افغان طالبان کی اہم فوجی تنصیبات اور کور ہیڈ کوارٹرز کو بھی تباہ کردیا۔سکیورٹی فورسز نیکرم سیکٹر کے قریب بھی افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کردیے جہاں 8 طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے جبکہ انگوراڈہ میں بھی ایک افغان پوسٹ کو تباہ کردیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی، سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کیخلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طورپر تیار ہیں۔پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیے جس میں خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کئے گئے گولے باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواح میں گرے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد زخمی ہوگئے جس میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمی افراد کو خار اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت میں مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا، افغان طالبان نے باجوڑ میں مسجد کو نشانہ بنایا ،افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے متاثرہوئے۔پاک افغان سرحد پر پاک فوج نے افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں کو فتح کر لیا اور افغان پوسٹوں پر قومی پرچم لہرا دیا ۔پاک فوج کے جوانوں نے افغان طالبان کی پوسٹ کو فتح کر کے کہا کہ افغان طالبان سن لو ہم تمہیں بھرپور جواب دے کر دکھائیں گے کہ تم کس سے ٹکرائے ہو، افغان طالبان کی پوسٹ کو فتح کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا ہے، اسی طرح ہم آئیں گے اور کابل کو بھی فتح کر لیں گے پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ تم نے ہم سے کیسے پنگا لیا۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قندھار میں بھی افغان طالبان رجیم کا ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس تباہ کردیا۔وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

کابل ، پکتیا اور قندھار میں فوجی اہداف پر حملوں میں مزید اموات ہوسکتی ہیں۔وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ پاک فوج نے افغان طالبان کی 27 چوکیاں تباہ اور 9 چوکیاں قبضے میں لے لیں ، جوابی کارروائی کے دوران دو کور ہیڈکوارٹرز ، 3 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز ، 2 اسلحہ ڈپو تباہ کردیے گئے ، ایک لاجسٹکس بیس ، 3 بٹالین ہیڈکوارٹرز ، 2 سیکٹر ہیڈکوارٹرز ، 80 سے زائد ٹینک ، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کردی گئی۔عطاتارڑ نے کہا کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور اور مضبوط جواب دیا، مسلح افواج نے پیشہ وارانہ مہارت سے وطن کا دفاع یقینی بنایا، پاکستانی ردعمل سے افغان طالبان بے یقینی کا شکار ہوگئی، مربوط اور موثر کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا سہارا لیا گیا، بین الاقوامی چینل کو بھی فیک خبرحذف کرناپڑی۔وزیرِ اطلاعات عطاتارڑ نے واضح کردیا کہ کسی بھی جارحیت سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ادھر پاک افغان صورتحال کے پیش نظر ضلع چمن میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ڈی ایچ او کے مطابق محکمہ صحت کی ہدایت پرضلع میں ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں۔تمام میڈیکل آفیسرز، پیرا میڈیکل اسٹاف ودیگرعملے کو طلب کرلیاگیا، ہدایت کی گئی کہ ادویات،طبی آلات اور ایمبولینس سروسز کی فعالیت کو یقینی بنایا جائے۔دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کردی۔

افغان میڈیا کے مطابق رات تقریبا ایک بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔افغان میڈیا نے بتایا کہ صوبے پکتیا میں طالبان منصوری کور پردو مرتبہ بمباری کی گئی۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ رات12بجیکے بعد قندھار میں پاکستانی طیارہ پرواز کرتا ہوا دیکھا گیا۔ادھر افغان دارالحکومت کابل میں طالبان وزارت دفاع کی عمارت کے اندر مبینہ طور پر اندرونی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آپریشن ضرب للحق میں جاری فضائی حملوں کے دوران وزارت دفاع کے احاطے میں فائرنگ اور کشیدگی کی صورتحال دیکھی گئی۔رپورٹ کے مطابق جھڑپوں کی وجوہات، ملوث گروپوں اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں، جبکہ واقعہ کو ایک جاری اور ابھرتی صورتحال قرار دیا جا رہا ہے۔میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا، جبکہ مزید معلومات کے انتظار میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی