وفاقی حکومت نے معاشی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور بجٹ میں حقیقت پسندی لانے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ممکنہ رعایات کے حصول کے لئے تمام معاشی وزارتوں سے تجاویزطلب کر لیں۔رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اعلی سطح پر اس جائزے کے بعد کیا گیا کہ موجودہ معاشی ڈھانچہ نہ تو خاطر خواہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کر پا رہا ہے اور نہ ہی پائیدار معاشی نمو فراہم کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزارتوں کے ساتھ پہلی مشاورتی نشست کی جس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر تجاویز مانگی گئیں، اجلاس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ کون سی سفارشات آئندہ بجٹ سے قبل نافذ کی جا سکتی ہیں اور کن پر اگلے بجٹ کے ساتھ عمل ہونا چاہیے، مشاورت ستمبر 2027 تک جاری آئی ایم ایف پروگرام کے دائرے میں ضروری معاشی ایڈجسٹمنٹس کے تناظر میں کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے تمام معاشی وزارتوں کو پروفارما ارسال کیا ہے جس میں پائیدار معاشی ترقی کیلئے تجاویز، ان کا میکرو اکنامک تجزیہ، درکار سبسڈیز اور ٹیکس آمدن پر اثرات کی وضاحت مانگی گئی ہے، تجاویزکو حتمی شکل دے کر آئی ایم ایف کے ساتھ ویٹنگ کیلئے اٹھایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطاببق ایک دوست ملک نے بھی آئی ایم ایف میں پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ ترقی میں رکاوٹ بننے والے اقدامات پر نرمی حاصل کی جا سکے تاہم حکومت کیلئے آئی ایم ایف کو قائل کرنا آسان نہیں ہو گا۔وزیراعظم کے پینل کی جانب سے ایک ہزار ارب کے ٹیکس ریلیف کی تجویز دی گئی ہے مگر آئی ایم ایف بعض معمولی ٹیکسوں میں نرمی پر بھی آمادہ نہیں، اسی تناظر میں پلاننگ کمیشن نے سول و عسکری قیادت کو کم معاشی نمو، کم سرمایہ کاری اور بڑھتی بے روزگاری سے آگاہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں معیشت کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں یہ سامنے آیا کہ پاکستانی صنعتوں میں برآمدات کیلئے مکمل ویلیو چین موجود نہیں اور پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں درکار ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے فریم ورک کے تحت 12 مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کیے جارہے ہیں۔حکومت کا ہدف ہے کہ مارچ تک یہ جائزے مکمل کر کے سعودی سرمایہ کاری لائی جائے اور فروری کے آخر میں ہونیوالے آئی ایم ایف ریویو میں کچھ ریلیف حاصل کیا جائے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی