وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کابل اور ننگرہار میں فضائی حملوں کے دوران فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ، پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لئے آپریشن غضب لِلحق مطلوبہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔ عطا اللہ تارڑ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر)پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے لکھاکہ پاک فوج نے 16 مارچ کی رات آپریشن غضب لِلحق کے تحت کامیابی سے اہداف پر فضائی حملے کیے جس میں کابل اور ننگرہار میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث تھیں۔انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں میں کابل اورننگرہارمیں افغان طالبان حکومت کے دہشتگردی کی معاونت کرنے والے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا، کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ گاہیں تباہ کر دی گئیں، حملوں کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے بڑے اسلحہ ڈپو کی موجودگی کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔
وفاقی وزیرِاطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ننگرہار میں بھی افغان طالبان حکومت کے زیر استعمال چار فوجی تنصیبات کونشانہ بنایاگیا، کارروائیوں میں لاجسٹکس، اسلحہ اور تکنیکی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، تمام اہداف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشتگرد گروہوں کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سمیت دہشتگرد نیٹ ورکس کی معاونت کر رہی ہے، طالبان حکومت کا پراپیگنڈا گمراہ کن ہے، حقیقت دنیا اور افغان عوام سے پوشیدہ نہیں۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لیے آپریشن غضب لِلحق مطلوبہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی