وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے عندیہ دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات جلد ہو جائے گی، شاید ایک یا دو ہفتے میں یہ ملاقات ہو جائے۔ایک انٹرویو میں اختیار ولی خان نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور محمود اچکزئی کی ملاقات سے پہلے عمران خان کی ملاقات ہو جائے گی۔ اختیارولی خان نے کہا کہ معاملات درست ہو رہے تھے لیکن پی ٹی آئی کی نچلی قیادت نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کریں گے، ہم نے کہا تھا اسٹریٹ موومنٹ کا شوق پورا کر لو پھر روتے ہوئے آئیں گے، ہم نے کہا تھا کہ جب دوبارہ روتے ہوئے آ گے تو مذاکرات کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹی او آرز میں بتا دیا تھا کہ کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں لانا، مذاکرات بھی ہوئے تو نئے الیکشن کا مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا، یہ مطالبہ قبول نہیں ہوگا ان کی مرضی ہے مذاکرات کریں یا نہ کریں، پی ٹی آئی سے مذاکرات میں قانون سے بالا کوئی بات نہیں ہوگی۔
پی ٹی آئی کی 8 فروری کی ہڑتال کے بارے میں اختیار ولی خان نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں کوئی پہیہ جام یا شٹر ڈائون نہیں ہوا، خیبر پختونخوا کے مختلف ڈویژن میں کاروبار کھلا تھا شٹر ڈائون نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کے پی میں کھلی دکانوں پر حملے کروائے، مالاکنڈ میں زبردستی کاروبار بند کروانے پر لوگوں نے پی ٹی آئی جلوس پر حملہ کیا، کے پی میں دکانیں بند کروانے کیلئے حملے کیے گئے ویڈیوز موجود ہیں، صوبے کے عوام زبردستی کاروبار بند کروانے کی وجہ سے پی ٹی آئی پر بپھر گئے، عوام نے کہا تم ہوتے کون ہو ہمارے دکانیں بند کرانے والے؟۔پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت نے ضد پر ہڑتال کی کال دی۔ سہیل آفریدی اور کمپنی نے اپنی ضد پر ہڑتال کے فیصلے کو سینئر قیادت پر تھونپا۔ کے پی بالکل مختلف نظر آیا شٹر ڈائون اور پہیہ جام کو مسترد کر دیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی