سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ نہ صرف عمران خان جیل سے باہر آئیں گے بلکہ ملک کی قیادت بھی کریں گے۔ تاہم انھوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر سابق وزیرِ اعظم کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک جاری رکھنے دیا گیا تو ایک دن انھیں ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ سکائی نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں زلفی بخاری سے سوال کیا گیا کہ کیا عمران خان کبھی جیل سے جیل سے باہر آ پائیں گے؟اس پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اگر آپ عمران خان کو جانتے ہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایک دن نہ صرف وہ جیل سے باہر آئیں گے بلکہ باہر آ کر ملک کی قیادت بھی کریں گے۔عمران خان کی صحت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سیاست سے قطع نظر، ایک دوست کی حیثیت سے میں جاننا چاہوں گا کہ وہ خیریت سے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اس ہی صورت ممکن ہے اگر عمران خان کے اہلِ خانہ، ذاتی معالجین اور قانونی ٹیم کو ان تک رسائی دی جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ عمران خان کے حوالے سے انھیں سب سے بڑا خدشہ کیا ہے تو زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پہلے بھی عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے، انھیں ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن اس بارے میں چھپایا گیا، انھیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، اب ان کی آنکھ کے بارے میں پتا چلا ہے۔ سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی چلنے دئیے گئے اور ہم نے اس بارے میں بھرپور آواز نہیں اٹھائی تو اس طرح کے حالات معمول بن جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو ختم بھی کر دیا جائے۔عمران خان کے بیٹوں کے ویزوں کے اجرا میں تاخیر کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک آن لائن سسٹم ہے، حکام جانتے ہیں کہ وہ دونوں کون ہیں، کیوں آ رہے ہیں، کہاں رکیں گے۔ ایسے میں انھیں اپنے والد، جن سے وہ تقریبا تین سال سے نہیں ملے، سے ملنے کے لیے آنے کے واسطے ویزے جاری نہ کرنا ایک غیر انسانی عمل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکام نے عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کے ویزوں کی درخواستیں مسترد نہیں کی ہیں، وہ بس کہتے ہیں کچھ تکنیکی وجوہات کی وجہ سے وزارتِ داخلہ میں زیرِ التوا ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی