i بین اقوامی

صیہونی فوج نے جنگ بندی توڑ دی، ماہ رمضان میں غزہ پر وحشیانہ حملہ، شدید بمباری، خواتین وبچوں سمیت 308 فلسطینی شہید،زمینی حملوں کی دھمکیتازترین

March 18, 2025

اسرائیلی فورسز کی جانب سے جنگ بندی ختم کرتے ہوئے ماہ رمضان میں غزہ کے مظلوم روزہ دار فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 300 سے زائد فلسطینی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیلی فوج نے زمینی حملے کی دھمکی بھی دیدی ہے ۔قطری نشریاتی ادارے کے مطابق صہیونی فورسز کی مسلسل بمباری کے بعد غزہ شہر مسلسل دھماکوں سے گونجتا رہا، اسرائیل نے حملہ ایسے وقت میں کیا جب لوگ گھروں، پناہ گزین کیمپوں اور اسکولوں کی عمارتوں میں سو رہے تھے۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں سحری کے وقت اسرائیلی فوج نے 35 فضائی حملے کیے۔غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 232 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، تاہم طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 308 افراد شہید ہوئے۔اب تک شمالی غزہ میں شہدا کی تعداد 154 ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی معاہدے کو منسوخ کرنے کے لیے محصور اور بے سہارا شہریوں پر غدارانہ حملہ کیا۔فلسطینی اسلامی جہاد نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 19 جنوری سے جاری جنگ بندی کو جان بوجھ کر سبوتاژ کر رہا ہے۔

غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم متعدد دھماکوں کی تباہ کن آوازوں سے بیدار ہوئے، جب غزہ کی پٹی کے شمال سے جنوب تک مختلف علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں جبالیہ، غزہ سٹی ، نصیرات، دیر البلاح اور خان یونس شامل ہیں۔ان حملوں میں گھروں، رہائشی عمارتوں، بے گھر افراد کو پناہ دینے والے اسکولوں اور خیموں کو نشانہ بنایا گیا، کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ،جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئیں، خاص طور پر جب یہ حملے لوگوں کے سونے کے اوقات میں ہوئے تھے۔غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 232 افراد شہید ہوئے ہیں ۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 48 ہزار 572 فلسطینیوں کی شہادت اور ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زائد بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینی وں کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔ حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن عزت الرشیق کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطین میں اپنے باقی ماندہ قیدیوں کی زندگیوں کی قربانی دے رہا ہے۔سی این این کے مطابق ایک بیان میں الرشیق نے کہا کہ نیتن یاہو کا جنگ میں واپسی کا فیصلہ ہمارے قبضے میں موجود صیہونی قیدیوں کو قربان کرنے اور ان کے خلاف سزائے موت دینے کا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن جنگ اور تباہی کے ذریعے بھی وہ سب حاصل نہیں کرسکے گا، جو وہ مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ فلسطینی گروپ نے عرب اور اسلامی ممالک کے عوام اور دنیا کے آزاد لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیل کے تباہ کن حملے کے خلاف سڑکوں پر نکلیں، اس حملے میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔حماس نے دنیا بھر کے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں ہمارے عوام کے خلاف صیہونی جنگ کی بحالی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کریں۔ادھر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر کا کہنا ہے کہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تک حملے جاری رہیں گے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاس سے قبل ایک پوسٹ میں غزہ پر وحشیانہ فضائی حملوں کا دفاع کیا۔انہوں نے لکھا کہ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، ہم اپنے دشمنوں پر رحم نہیں کریں گے، بہت واضح ہے کہ اسرائیل اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک ہمارے تمام یرغمالی وطن واپس نہیں آ جاتے۔ہم سلامتی کونسل پر یہ واضح کر دیں گے کہ اگر وہ غزہ میں جنگ روکنا چاہتے ہیں تو انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یرغمالی اسرائیل واپس آئیں، ہم انہیں واپس لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو غزہ میں حماس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس گروپ پر قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کرنے اور جنگ بندی کے بارے میں اسرائیل کی تجاویز سے اتفاق نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اب سے حماس کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔حماس کئی ہفتوں سے نیتن یاہو پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ غزہ میں لڑائی کے خاتمے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ دوسری جانب وائٹ ہائوس کی پریس سکریٹری کارولین لیویٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر تازہ ترین حملہ کرنے سے قبل صدر ٹرمپ سے مشاورت کی تھی۔انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا جیسا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے، حماس، حوثی، ایران وہ سب جو نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکا کو دہشت زدہ کرنا چاہتے ہیں، ان سب کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی اور ان پر جہنم کھول دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں، حزب اللہ، حماس، ایران اور ایرانی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو صدر ٹرمپ کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے، جب وہ کہتے ہیں کہ وہ قانون کی پاسداری کرنے والے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور امریکا اور ہمارے دوست اور اتحادی اسرائیل کے لیے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے۔ دریں اثناء اسرائیلی فوجی عہدیدار نے غزہ پر زمینی حملے کی دھمکی دیتے ہوئے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جب تک ضروری ہوا، اسرائیل کا حملہ جاری رہے گا اور فضائی حملوں سے آگے بڑھے گا، جو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی زمینی فوجیوں کی ممکنہ واپسی کا اشارہ ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع اسرائیل کارٹز نے دھمکی دی ہے کہ حماس نے تمام یرغمالی رہا نہ کیے تو غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔اسرائیل کارٹز کا کہنا تھا کہ حماس پر اس انداز میں حملے کیے جائیں گے، کہ اس نے ایسا پہلے کبھی دیکھا نا سنا ہوگا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی