امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے معاملے پر ججوں کی جانب سے مخالفت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے جج مجھے وہ کرنے دیں گے جس کے لیے عوام نے منتخب کیا۔وائٹ ہائوس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت بڑے پیمانے پر دھوکا دیا جا رہا ہے،جج ہمیں فراڈ کا پتہ چلانے سے کیسے روک سکتے ہیں۔میں ہمیشہ عدلیہ کے فیصلے پر عمل کرتا ہوں،عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں تو معاملے میں تاخیر ہوتی ہے۔ اور اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آرڈر پاس کرنے کے بعد ایوان کی اجازت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگرجج کہے کہ ہم کسی عمل کا جائزہ نہیں لے سکتے تو ملک کے لیے افسوس ناک ہے ۔ اس موقع پر ایلون مسک حکومتی استعداد کار سے متعلق محکمے کادفاع کرنے ٹرمپ کیساتھ کھڑے ہوگئے۔وائٹ ہائوس میں ٹرمپ کے ہمراہ موجود ایلون مسک نے کہا کہ محکمہ خزانہ میں ادائیگی کے نظام میں خرابیاں دور کریں گے۔اس کے علاوہ فلسطینیوں کو فنڈنگ سے متعلق بیان جھوٹا ثابت کرنے پر مسک نے صحافیوں سے کہاکہ میری کہی ہوئی کچھ چیزیں ٹھیک ہوسکتی ہیں۔ ایلون مسک نے میڈیا گفتگو میں امریکی عوام کے ٹیکس کی رقم کے غلط استعمال اور کرپشن پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔دونوں رہنمائوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کے پیسوں کی صحیح طریقے سے نگرانی کی جانی چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام کے ٹیکس کی رقم کے ساتھ فراڈ کیا گیا ہے۔ اربوں ڈالر کی کرپشن کی گئی ہے جو اب سامنے آ چکی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام اکثر سوال کرتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کے پیسے کہاں خرچ ہو رہے ہیں، اور یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایلون مسک کی ٹیم نے بھی مختلف سرکاری اداروں میں خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایلون مسک کی ٹیم نے کئی خرابیوں کی نشاندہی کی ہے جو عوام کے پیسوں کے غلط استعمال کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔"ایلون مسک نے اس موقع پر کہا کہ میری کہی ہوئی کچھ چیزیں درست ثابت ہو سکتی ہیں، اور میں اس پر غور کر رہا ہوں۔انہوں نے غیر جمہوری بیوروکریسی کو ملک کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب قرار دیا اور کہا کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے امیر ہو گئے ہیں، اور ہمیں اس غلط استعمال کو روکنا ہوگا۔مسک نے مزید کہا کہ محکمہ خزانہ میں یہ تک معلوم نہیں ہے کہ کس کو کتنے پیسے دیے جا رہے ہیں، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔انہوں نے یو ایس ایڈ کے حوالے سے بھی تنقید کی اور کہا کہ یو ایس ایڈ بہت زیادہ کرپشن کر رہا ہے، اور ہمیں غزہ اور موزمبیق میں پیسے دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ خر میں ٹرمپ نے کہا کہ پینٹاگون، فوج، تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری کی ضرورت ہے، اور ہم ان شعبوں پر خصوصی توجہ دیں گے تاکہ عوامی خدمات میں بہتری لائی جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی