ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو مشن کے دوران تباہ ہونے والے امریکی طیاروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں استعمال ہونے والے دو جدید ایم سی 130 جے ٹرانسپورٹ طیارے ایک متروک (استعمال سے باہر)) ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد امریکی فوج کو انہیں خود ہی تباہ کرنا پڑا۔امریکی فضائیہ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے مطابق ان دونوں طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر(یعنی 10 کروڑ ڈالر) سے زائد ہے، جس کے باعث اس واقعے کو مالی لحاظ سے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن کے علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و حرکت، دراندازی (انفلٹریشن) اور انخلا جیسے حساس مشنز انجام دیتے ہیں۔
ان میں جدید سینسرز اور دفاعی نظام نصب ہوتے ہیں جو انہیں خاص طور پر ہیٹ سیکنگ میزائلوں سے بچا میں مدد فراہم کرتے ہیں۔امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ یہ طیارے کم بلندی پر پرواز کرنے اور دشمن کی نظروں سے بچ کر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں دورانِ پرواز ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ خود بھی ہیلی کاپٹروں اور دیگر طیاروں کو ایندھن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ یہ طیارے جدید ڈیجیٹل ایویانکس، نیویگیشن سسٹم اور طاقتور ٹربو پراپ انجنز سے لیس ہوتے ہیں، جو انہیں مشکل ترین حالات میں بھی آپریشن جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ طیارے عموما رات کے وقت مشنز انجام دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے بچا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق یہ طیارے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیے ہیں اور ان کی پرواز کی رینج تقریبا 3 ہزار میل ہے۔ ہر طیارے میں 5 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جن میں پائلٹس اور اسپیشل مشن کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی