جرمنی کے شہر میونخ میں 24 سالہ افغان پناہ گزین نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 28 افراد زخمی ہو گئے۔ چانسلر نے سخت اعلان کیا کہ اس مجرم کو کسی بھی قسم کی نرمی کی امید نہیں کرنی چاہیے۔عرب میڈیا کے مطابق جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی ٹکر سے 28 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے۔عرب میڈیا کے مطابق واقعہ تاریخی مرکز کے قریب پیش آیا، گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جرمن پولیس کے مطابق حملہ آور افغان شہری ہے جس نے پناہ کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔ اس پر چوری اور منشیات فروشی کے سنگین الزامات ہیں۔وزیر داخلہ باویریا نے بتایا کہ انہیں اس بات شبہ نہیں کہ اس واقعے کا تعلق کانفرنس سے ہے۔پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس سے مزید کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ واقعہ سیکیورٹی کانفرنس کے مقام سے 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز کا کہنا ہے کہ میونخ میں گرفتار ہونے والے مشتبہ افغان شخص کو سزا ملنی چاہیے اور اسے ملک سے نکال دیا جانا چاہیے۔ اس مجرم کو کسی بھی قسم کی نرمی کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ انھیں سزا ملنی چاہیے اور انھیں ملک چھوڑنا چاہیے۔واضح رہے کہ میونخ میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا کہ جب میونخ سیکیورٹی کانفرنس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے جس میں دنیا بھر کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی