ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا، امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ کے خلاف حکم جاری کرنے والے جج کا مواخذہ کرنے سے انکار کردیا۔غیرملکی خبر رساںادارے کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر اختلاف کی بنا پر کسی جج کا مواخذہ مناسب نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے معمول کا ایپلیٹ جائزہ موجود ہے۔صدرٹرمپ نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف حکم جاری کرنے والے واشنگٹن ڈی سی ڈسٹرکٹ کورٹ کے چیف جج جیمز ای بواسبرگ کا مواخذہ کیا جائے۔جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حالت جنگ کے دور کی متنازع اتھارٹی استعمال کرکے وینزویلا کے گینگ اراکین کو اس وقت تک ڈیپورٹ نہ کریں جب تک کہ کارروائی جاری ہے تاہم وائٹ ہاوس نے اگلے روز کہا تھاکہ 137 افراد کو ڈیپورٹ کردیا گیا ہے۔ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ جج بواسبرگ انتہائی دائیں بازو کے پاگل شخص ہیں اور ان ٹیڑھے دماغ کے ججوں میں سے ہیں جن کے سامنے انہیں پیش ہونا پڑا تھا اور ان کا ہر صورت مواخذہ ہونا چاہیے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی