i بین اقوامی

ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا،ٹرمپ کی دھمکیتازترین

April 27, 2026

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا،امریکی صدر نے حملہ آور کو ذہنی بیمار شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کے گھر والے جانتے تھے کہ اسے مشکلات درپیش تھیں۔مریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دئیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے۔

نیٹو کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کرکے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔دریں اثنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹریو میں وائٹ ہائو س پریس ڈنر کے دوران پیش آئے فائرنگ کے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور مسیحیت مخالف نظریات کا حامل تھا اور اسکے دل میں بہت نفرت تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ڈنر تقریب میں حملہ آور کو فوری طور پر روکا گیا، تقریب کی جگہ کو محفوظ بنانا مشکل تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا حملہ آورعیسائی مخالف نظریات رکھتا ہے، اسکے دل میں بہت نفرت تھی، آپ اس کا منشور پڑ ھیں وہ مسیحیوں سے نفرت کرتا ہے۔انہوں نے حملہ آور کو ذہنی بیمار شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کے گھر والے جانتے تھیکہ اسے مشکلات درپیش تھیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کے پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک انتہا پسندانہ منشور قرار دیا۔ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو خوفناک افراد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاں، اس نے یہ لکھا ہے۔ میں زانی نہیں ہوں۔ میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں۔ معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔ آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔ میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی