i بین اقوامی

ایران اور امریکا کو جنگ بندی کیلئے جامع منصوبہ اسلام آباد اکارڈ موصول ہو گیا، برطانوی میڈیاتازترین

April 06, 2026

ایران نے ایک بار پھر پاکستان اقدامات کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز وصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔برطانوی خبر رساںادارے رائٹرز کے مطابق سینئر ایرانی عہدیدار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے اور جنگ بندی پیشکش کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتا، تہران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا تہران دبائو میں آکر کسی ڈیڈ لائن کو قبول کرنے اور فوری فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔خیال رہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیے کے ساتھ مل کر خطے میں امن کے لیے کوششیں کر ر ہا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس پر دونوں ممالک غورکررہے ہیں ۔ پاکستان کا پیش کردہ فریم ورک دو مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل معاہدہ ہو گا۔

اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوری نفاذ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان اس عمل میں واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، عسکری قیادت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے، معاہدے کے تحت 45 روزہ جنگ بندی بھی زیر غور ہے۔ اس فریم ورک میں ابتدائی طور پر فوری سیزفائر کی تجویز شامل ہے، جس کے بعد 15 سے 20 دن کے اندر ایک مستقل معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ا منصوبے کو عارضی طور پر اسلام آباد معاہدہ کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر اعلی سطحی سفارتی رابطے کیے، جن میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے نے مزید کہا ہے کہ منصوبے کے مطابق ابتدائی سمجھوتہ ایک مفاہمتی یادداشت(ایم او یو) کی صورت میں طے کیا جا سکتا ہے، جبکہ حتمی مذاکرات اسلام آباد میں براہ راست ملاقاتوں کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے۔رائٹرز کے مطابق ایران مستقل جنگ بندی کے ساتھ سیکیورٹی ضمانتیں چاہتا ہے کہ مستقبل میں اس پر حملے نہیں ہوں گے۔مجوزہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے گروپ کی ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت ہورہی ہے۔امریکی ویب سائٹ کا ذرائع کے حوالے سے دعوی ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروپ ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی کی شرائط پر بات کر رہا ہے جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے ۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ثالث 2 مرحلوں پر مشتمل ڈیل کی شرائط پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، پہلامرحلہ ممکنہ45 روزہ جنگ بندی ہوگا،اس دوران جنگ کے مستقل خاتمے پربات ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق دوسرا مرحلہ جنگ کے خاتمے پر ایک معاہدہ ہوگا، مذاکرات کے لیے اضافی وقت درکار ہوا تو جنگ بندی میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کیلئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے واحد موقع ہے۔ ادھر وائٹ ہائو س اور امریکی محکمہ خارجہ نے رپورٹ پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی