امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطی تنازع ہفتوں میں نہیں دنوں میں ختم ہونا چاہیے، اگر معاہدہ نہ ہوا تو بہت کم چھوڑ کر پورے ایران کو تباہ کیا جاسکتا ہے دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا امریکا نے دوبارہ غلطی کی تو عالمی توانائی اور تجارت کا بہا ایک ہی وار سے مفلوج ہوسکتا ہے ۔صدر ٹرمپ نے امریکی اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امریکا کی زمینی فوج کا جانا ضروری نہیں لیکن یہ خارج از امکان بھی نہیں ہے، معاہدہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا۔ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی تنازع ہفتوں میں نہیں دنوں میں ختم ہونا چاہیے، اگر معاہدہ نہ ہوا تو بہت کم چھوڑ کر پورے ایران کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔اس سے قبل اتوار کو مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی ۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایران کے خلاف گالیوں کا بھی استعمال کیا۔آبنائے ہرمز کی اہم آبی تجارتی گزر گاہ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر اخلاقی اور دھمکی آمیز بیان پر ایران کا سخت ردِعمل سامنے آگیا۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے سینیئر مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ مزاحمتی محاذ کی متحدہ کمان باب المندب کو آبنائے ہرمز کی طرح دیکھتی ہے ، امریکا نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو عالمی توانائی اور تجارت کا بہا ایک ہی وار سے مفلوج ہوسکتا ہے۔ایرانی عدلیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کی استقامت اور مزاحمت سے ٹرمپ پاگل پن کا شکار ہوچکے ہیں ، بوکھلاہٹ میں مبتلا امریکی صدر گھٹیا اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود قربان کرکے دوسروں کو دھمکانے والا ٹرمپ پتھر کے زمانے میں پھنسا ہوا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ٹرمپ کو مخاطب کرکے اپنے بیان میں لکھا کہ تم جنگی جرائم کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کرسکو گے، تمہارے غیر ذمہ دارانہ اقدامات ہر امریکی خاندان کو زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں
ہمارا پورا خطہ جلنے والا ہے کیونکہ تم نیتن یاہو کے احکامات ماننے پر مصر ہو، موجودہ صورتحال کا واحد حل ایرانیوں کے حقوق کے احترام میں ہے۔اس کے علاوہ پاکستان میں ایرانی سفارت خانے نے غیر متوازن رویے پر امریکا سے ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا ضمیر زندہ ہوتا تو یہ ادارہ جنگ کے شوقین ٹرمپ کی کھلے عام دھمکیوں پر خاموش نہ رہتا۔ایرانی مشن نے کہاکہ ٹرمپ کی ایران کے اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی جنگی جرم کی نیت کا واضح ثبوت ہے ، ایسے سنگین جنگی جرائم کو فوری رکوانا بین الاقوامی برادری اور تمام ریاستوں کی قانونی ذمہ داری ہے ، کل بہت دیر ہوجائے گی ۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو ایرانی افواج بھی امریکا کی اسی طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گی۔ الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے انفراسٹرکچر اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس ملک کی پوری آبادی کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کسی منطق اور قانون کو نہیں مانتی اور بنیادی اخلاقیات کے تقاضوں سے عاری ہے۔اس سے قبل ایرانی صدر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو اسی صورت میں کھولا جائے گا، جب ایران ٹرانزٹ ٹول کا ایک حصہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے استعمال نہیں کر لیتا۔واضح رہے کہ ایران نے یہ عندیہ دے رکھا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا۔ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ کے جنرل علی عبداللہ علی آبادی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی ایک بے بس، اعصاب شکن، غیر متوازن اور احمقانہ اقدام ہے۔ ادھر عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران کے واحد فعال جوہری بجلی گھر بوشہر پر حالیہ حملوں نے پورے خلیجی خطے میں بڑے جوہری حادثے کے خدشات کو بڑھا دیا۔الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اس تنصیب کو اب تک 4 مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے جس سے علاقائی سلامتی اور ماحولیات پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بوشہر میں واقع یہ جوہری بجلی گھر مشرقِ وسطی کا پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے، جس پر کام 1975 میں شروع ہوا جبکہ اسے 2011 میں روسی تعاون سے مکمل کیا گیا۔
پلانٹ کا یونٹ 1 تقریبا 1000 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے جبکہ مزید 2 ری ایکٹرز 2029 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر ری ایکٹر یا استعمال شدہ ایندھن کے ذخائر کو نقصان پہنچا تو خطرناک تابکار مادہ سیسیم 137 (Caesium-137) فضا میں خارج ہو سکتا ہے۔یہ ذرات ہوا اور پانی کے ذریعے دور دراز ممالک تک پھیل سکتے ہیں جس سے زمین اور خوراک آلودہ ہو سکتی ہے، پینے کا پانی ناقابلِ استعمال ہو سکتا ہے اور کینسر سمیت طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ پلانٹ پر براہِ راست حملہ علاقائی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔اگر بجلی کی سپلائی لائنیں متاثر ہوئیں تو کولنگ سسٹم بند ہونے سے ری ایکٹر پگھل سکتا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں کلومیٹر تک آبادیوں کے لیے فوری انخلا مجبوری بن جائے گا۔خلیجی ممالک اپنی زیادہ تر پینے کے پانی کی ضروریات سمندری پانی کو صاف کر کے پوری کرتے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق تابکاری سمندر میں شامل ہونے پر ڈی سیلینیشن پلانٹس کام نہیں کر سکیں گے، خلیج کی کم گہرائی آلودگی کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہے جبکہ سمندری حیات اور خوراک کا نظام شدید متاثر ہو گا۔قطر کے وزیرِ اعظم کے مطابق ایک ممکنہ حملے کی صورت میں ملک 3 دن میں پانی کی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔بین الاقوامی قانون خصوصا جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 56 کے تحت جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ممنوع ہے کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پر جانی و ماحولیاتی نقصان ہو سکتا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بوشہر پر کسی بڑے حملے کی صورت میں اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خلیجی خطہ ماحولیاتی، انسانی اور آبی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایران نے واضح انداز میں کہا ہے کہ نقصانات کا معاوضہ لیے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔ایرانی صدر آفس حکام کے مطابق ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش پر سول انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی، صدر ٹرمپ نے مایوسی اور غصے کی وجہ سے فحاشی اور بکواس کا سہارا لیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے ایران کی استقامت اور مزاحمت نے ٹرمپ کو پاگل پن کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، ٹرمپ نے گھٹیا زبان استعمال کرکے ایرانیوں کی توہین کی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی