i بین اقوامی

عمان کی ثالثی میں ایران، امریکا بالواسطہ مذاکرات آج جنیوا میں ہوں گےتازترین

February 16, 2026

عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور آج (منگل کو) جنیوا میں شروع ہوگا،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان مذاکرات کے تناظر میں سخت مطالبات سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے تمام افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کی جانی چاہیے۔غیرملکی خبر رساںادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی اور تکنیکی وفد کے ہمراہ مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزر لینڈ روانہ ہوگئے، عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کت درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج سے شروع ہو رہا ہے ۔جنیوا کے دورے کے دوران وزیر خارجہ سوئٹزرلینڈ اور عمان کے وزرائے خارجہ، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اور سوئٹزرلینڈ میں موجود دیگر بین الاقوامی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور عمان میں ہوا تھا، جس میں بات چیت مزید جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں سخت مطالبات سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے تمام افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کی جانی چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے یہ موقف امریکا کے ساتھ حالیہ سفارتی رابطوں کے دوران اختیار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکا کا کوئی بھی نیا معاہدہ جامع اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے، جس میں نہ صرف افزودگی کے عمل کو روکا جائے بلکہ جوہری تنصیبات، تحقیقاتی مراکز اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہو۔اسرائیلی وزیراعظم نے دعوی کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بھی واضح کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو جڑ سے ختم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قابلِ قبول نہیں سمجھے گا جو ایران کو مستقبل میں دوبارہ جوہری سرگرمیاں بحال کرنے کا موقع فراہم کرے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ نیتن یاہو نے مطالبہ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی حد زیادہ سے زیادہ 300 کلومیٹر تک محدود کی جائے تاکہ خطے میں سلامتی کے خدشات کم کیے جا سکیں۔ان کا موقف تھا کہ میزائل پروگرام کو نظرانداز کرنا کسی بھی سفارتی پیش رفت کو غیر موثر بنا سکتا ہے۔

دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں تقریبا 500 کلومیٹر طویل زیرِ زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکا۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم سرنگوں کی پیچیدہ ساخت اور پھیلا ئوکے باعث مکمل خاتمہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔ادھر ایرانی چیف آف سٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ لڑائی امریکی صدر ٹرمپ کیلئے ناقابل فراموش سبق ہوگا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنے ایک ایک بیان میں ایرانی چیف آف سٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے غیر محتاط بیانات سربراہ مملکت کے شایان شان نہیں، ٹرمپ جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں تو مذاکرات کی بات کیوں کر رہے ہیں۔ اس دوران مذاکرات کے دوران بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دبائو بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔سلوواکیہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ آج تک کوئی کامیاب معاہدہ نہ کر سکا، کوشش کر رہے ہیں ڈیل کامیاب ہو، مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو قانون کے مطابق اقدام کریں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی