ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت ہے۔ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے خصوصی ایلچی نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی، جس کے دوران عباس عراقچی نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حکومتوں کے جرائم سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے اپیل کی کہ دیگر ممالک امریکی و اسرائیلی حملوں کی واضح الفاظ میں مذمت کریں۔ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتائج کی ذمے داری جارح قوتوں پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری جانب ایران کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ انصاف، وقار اور دانش مندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ایرانی صدر کے دفتر نے ملکی قیادت میں اختلافات کی خبریں مسترد کردیں اور کہا کہ ایرانی قیادت کے اندر مثالی اتحاد ہے۔ترجمان ایران صدارتی دفتر مہدی طباطبائی نے امریکی صدر کا نام لیے بغیر کہا کہ دشمن سیاسی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جھوٹ گھڑنے کے بجائے، انہیں اپنی وعدہ خلافی، دھونس اور فریب کاری بند کرنی چاہئے، انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی