موجودہ مالی سال کے دوران منظور اور تجویز کیے گئے سرکاری سرمایہ کاری منصوبوں سے ملک بھر میں ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ حکومت ترقیاتی اخراجات کو عملی طور پر لوگوں کے روزگار میں بہتری سے جوڑنے پر توجہ دے رہی ہے۔منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت کے اکنامک پالیسی وِنگ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ ترقیاتی رپورٹ فروری 2026کے مطابق، جنوری 2026 میں جائزہ لیے گئے ترقیاتی منصوبوں سے درمیانی مدت میں تقریبا 35,167 براہِ راست اور تقریبا 73,505 بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزگار کی فراہمی سرکاری سرمایہ کاری پالیسی کا بنیادی مقصد ہیجس کا ہدف ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینا اور گھریلو آمدنی کو مضبوط بنانا ہے۔ انفراسٹرکچر اور سماجی شعبوں کے منصوبوں کو روزگار سے جوڑ کر حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ترقیاتی اخراجات کے ثمرات معیشت کے وسیع طبقے تک پہنچیں۔درمیانی مدت کے روزگار کے اثرات کے علاوہ ان منصوبوں کے تحت 2,179 ایسی اسامیاں بھی پیدا ہوں گی جو براہِ راست منصوبوں پر عملدرآمد سے متعلق ہوں گی۔ ان میں انتظامی، تکنیکی اور عملی نوعیت کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ یہ آسامیاں ایک طرف فوری روزگار فراہم کریں گی اور دوسری طرف منصوبوں کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوں گی۔
روزگار کے اثرات صرف منصوبوں کی جگہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ ترقیاتی کاموں کے باعث سپلائی چین، معاون خدمات اور دیگر متعلقہ معاشی سرگرمیوں میں بھی بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ ایسے اثرات سے مقامی کاروبار، ٹھیکیدار، ٹرانسپورٹ سروسز اور چھوٹے ادارے بھی فائدہ اٹھائیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور کمیونٹی سروسز جیسے شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری مختلف مہارتوں کے حامل افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ تعمیراتی سرگرمیاں مزدوروں اور سامان کی طلب بڑھاتی ہیں جبکہ سماجی شعبے کے منصوبے خدمات کی فراہمی اور دیکھ بھال کے شعبوں میں ملازمتیں پیدا کرتے ہیں۔روزگار پر مبنی ترقیاتی اخراجات کو معاشی شمولیت کے لیے خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ مختلف علاقوں اور شعبوں میں کام کے مواقع پیدا کرکے یہ منصوبے آمدنی میں استحکام لانے اور لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔پلاننگ کمیشن کے جائزے کے مطابق، منصوبہ بندی کے مرحلے میں روزگار کے پہلو کو شامل کرنے سے سرکاری اخراجات کے سماجی و معاشی فوائد میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگر منصوبے کی تیاری کے وقت ہی ملازمتوں کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تو اس سے نہ صرف اثاثے بنتے ہیں بلکہ بامعنی معاشی مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ان روزگار کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے منصوبہ بندی کی تفصیلی دستاویزات، بشمول پی سی-ون تجاویز، کا جائزہ لیا گیا۔ یہ تخمینے تین سے پانچ سال کی درمیانی مدت پر مبنی ہیں جن میں تعمیراتی مرحلے اور بعد از تکمیل آپریشنل فوائد دونوں شامل ہیں۔ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد ملازمتوں کی متوقع فراہمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ترقیاتی منصوبے لوگوں کی زندگیوں پر کس قدر وسیع اثر ڈال سکتے ہیں۔ براہِ راست بھرتیوں اور بالواسطہ معاشی سرگرمیوں کے ذریعے یہ سرمایہ کاری روزگار کے وسیع نیٹ ورک کو فروغ دے گی۔رپورٹ کے مطابق اگر محنت طلب اور خدمات سے متعلق منصوبوں پر مسلسل توجہ دی جائے تو روزگار کے نتائج مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔ روزگار کے اہداف سے ہم آہنگ ترقیاتی اخراجات حکومت کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ رہیں گے۔مختلف شعبوں میں ہزاروں ملازمتوں کی توقع کے ساتھ حالیہ ترقیاتی پروگرام واضح کرتا ہے کہ سرکاری سرمایہ کاری نہ صرف ڈھانچہ سازی کے لیے اہم ہے بلکہ روزگار میں اضافہ اور جامع معاشی ترقی کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک