آئی این پی ویلتھ پی کے

پی ایس ڈی پی کے تحت جنوری تک 272.8 ارب روپے خرچ، ترقیاتی بجٹ کا 61 فیصد حصہ انفراسٹرکچر کے لیے مختص: ویلتھ پاکستان

February 16, 2026

موجودہ مالی سال کے دوران سرکاری ترقیاتی اخراجات میں تیزی آئی ہے۔ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جنوری کے اختتام تک 272.8 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جو اہم شعبوں میں حکومتی منصوبوں پر مسلسل عملدرآمد کو ظاہر کرتا ہے۔منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت کے اکنامک پالیسی وِنگ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ ترقیاتی رپورٹ فروری 2026کے مطابق، اس عرصے میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے 338.2 ارب روپے کی منظوری دی جن میں سے 272.8 ارب روپے ایس اے پی نظام کے ریکارڈ کے مطابق خرچ کیے جا چکے ہیں۔مالی سال 2025-26 کے لیے پی ایس ڈی پی کا کل حجم ایک کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ رقم انفراسٹرکچر، سماجی خدمات، گورننس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ اخراجات کے رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ توجہ انفراسٹرکچر کی ترقی پر دی جا رہی ہے۔انفراسٹرکچر کے شعبے کو 614.7 ارب روپے مختص کیے گئیجو کل پی ایس ڈی پی کا 61 فیصد بنتا ہے۔ اس میں سے جنوری کے اختتام تک 156.43 ارب روپے خرچ ہو چکے تھے۔ انفراسٹرکچر کے اندر ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کو سب سے زیادہ یعنی 325.62 ارب روپے دیے گئے جن میں سے 80.47 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رابطہ کاری اور نقل و حمل کے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

آبی وسائل کے شعبے کو 97.8 ارب روپے دیے گئیجن میں سے 34.33 ارب روپے خرچ ہوئے۔ فزیکل پلاننگ اور ہاسنگ کے شعبے کو 68.64 ارب روپے میں سے 30.93 ارب روپے استعمال کیے گئے۔ توانائی کے شعبے کے لیے 122.65 ارب روپے مختص تھے جن میں سے 10.69 ارب روپے خرچ ہوئے۔سماجی شعبے کو مجموعی طور پر 178.25 ارب روپے ملے جو کل پی ایس ڈی پی کا 18 فیصد ہے۔ اس میں تعلیم کے لیے 65.30 ارب روپے رکھے گئیجن میں سے 24.38 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ صحت اور غذائیت کے شعبے کو 16.54 ارب روپے دیے گئے جن میں سے 3.66 ارب روپے استعمال ہوئے۔دیگر شعبوں میں بھی پیش رفت جاری رہی۔ گورننس سے متعلق منصوبوں کے لیے 10.28 ارب روپے مختص ہوئے جن میں سے 3.01 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو 42.74 ارب روپے دیے گئے جن میں سے 8.37 ارب روپے خرچ ہوئے جو ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے منصوبوں پر جاری سرمایہ کاری کو ظاہر کرتا ہے۔مزید برآں، صنعت و پیداوار کے شعبے کو 6.76 ارب روپے ملے جو خوراک، زراعت اور صنعتی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

خصوصی علاقوں، بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان، کے لیے 81.8 ارب روپے مختص کیے گئیجبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 65.44 ارب روپے رکھے گئے تاکہ علاقائی ترقی اور انضمام کو فروغ دیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق فنڈز کی منظوری اور ان کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے جن کا مقصد انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، خدمات کی فراہمی بہتر کرنا اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ پہلے سات ماہ کے دوران مستقل اخراجات سالانہ ترقیاتی اہداف کی جانب پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ترجیحی شعبوں میں وسائل مختص کر کے پی ایس ڈی پی کا مقصد منصوبوں کی تکمیل کو تیز کرنا اور ملک بھر میں سماجی و معاشی فوائد پہنچانا ہے۔ انفراسٹرکچر پر زور دینا اس حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت طویل مدت میں ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جا رہا ہے۔جنوری تک 272.8 ارب روپے خرچ ہونے کے ساتھ ترقیاتی اخراجات مالی سال 2025-26 میں قومی ترقیاتی اہداف کے حصول اور سرکاری سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کا اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک