آئی این پی ویلتھ پی کے

رسیلاتِ زر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جولائی تا دسمبر سروسز کی برآمدات میں 16.5 فیصد اضافہ: ویلتھ پاکستان

February 16, 2026

موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان کو بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم ترسیلاتِ زر19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ خدمات کی برآمدات میں بھی دوہرے ہندسے کا مضبوط اضافہ دیکھنے میں آیاجس سے ملک کی بیرونی مالی صورتحال کو اہم سہارا ملا۔منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت کے اکنامک پالیسی وِنگ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ ترقیاتی رپورٹ فروری 2026 کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی جولائی تا دسمبر مدت میں ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ رقم 17.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 19.7 ارب ڈالر ہوگئی جو زرِ مبادلہ میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترسیلاتِ زر مسلسل ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم نے گھریلو آمدنی میں اضافہ کیا اور معاشی بحالی کے دوران معیشت کو سہارا فراہم کیا۔ترسیلات میں اضافے کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں جن میں مثر حکومتی اقدامات، مستحکم شرحِ مبادلہ، بیرونِ ملک روزگار کے بڑھتے مواقع اور میزبان ممالک میں سازگار معاشی حالات شامل ہیں۔

ان عوامل نے لوگوں کو سرکاری ذرائع سے زیادہ رقوم بھیجنے کی ترغیب دی۔اسی دوران خدمات کی برآمدات میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران خدمات کی برآمدات 16.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے میں بنیادی کردار انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ، کاروباری خدمات اور سفری سرگرمیوں کا رہا۔آئی سی ٹی اور کاروباری خدمات میں وسعت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی تجارت میں ڈیجیٹل اور علم پر مبنی شعبوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔ روایتی اشیا کے برعکس، خدمات کی برآمدات کے لیے کم ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں تیزی سے وسعت دی جا سکتی ہے جس سے کمپنیاں عالمی منڈیوں تک زیادہ آسانی سے رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔دوسری جانب خدمات کی درآمدات بھی بڑھ کر 6.5 ارب ڈالر ہوگئیں جو سفر، مالیاتی اور ٹرانسپورٹ خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ رجحان ملکی کھپت اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کے مطابق ہے۔مجموعی طور پر، زیادہ ترسیلاتِ زر اور خدمات کی بڑھتی ہوئی برآمدات نے بیرونی شعبے کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مثبت کردار ادا کیا۔

مسلسل زرِ مبادلہ کی آمد ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم رکھنے اور بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت میں مدد دیتی ہے۔پلاننگ کمیشن کے جائزے کے مطابق، طویل مدت میں مضبوطی کے لیے بیرونی آمدنی کے ذرائع کا متنوع ہونا ضروری ہے۔ ترسیلاتِ زر کے ساتھ ساتھ خدمات کی برآمدات میں اضافہ آمدنی کے ذرائع کو وسیع کرتا ہے اور کسی ایک ذریعے پر انحصار کم کرتا ہیجس سے بیرونی ڈھانچہ زیادہ متوازن بنتا ہے۔چھ ماہ کے دوران تقریبا 2 ارب ڈالر کے اضافے اور خدمات کی برآمدات میں مسلسل بہتری اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی اور خدمات کے شعبے معیشت میں مضبوط کردار ادا کر رہے ہیں۔مالی سال کے پہلے نصف میں ترسیلاتِ زر 19.7 ارب ڈالر اور خدمات کی برآمدات 4.8 ارب ڈالر تک پہنچنے سے واضح ہے کہ بیرونی رقوم کی آمد ملکی استحکام کا اہم ستون بنی ہوئی ہیجو معاشی سرگرمیوں کو سہارا دے رہی ہے اور بحالی کے عمل پر اعتماد کو مضبوط کر رہی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک