آئی این پی ویلتھ پی کے

صا ف پانی تک رسائی 22 فیصد، ملک بھر میں صفائی ستھرائی کی سہولیات 89 فیصد تک پہنچ گئیں: ویلتھ پاکستان

January 13, 2026

ہائو س ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 202425 کے مطابق پاکستان بھر میں گھریلو بنیادی سہولیات تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔ صاف پینے کے پانی استعمال کرنے والے گھرانوں کا تناسب بڑھ کر 22 فیصد ہو گیا ہے جبکہ صفائی ستھرائی کی سہولیات رکھنے والے گھرانوں کی شرح 89 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نلکے کے پانی تک رسائی 18 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہو گئی ہیجبکہ فلٹر شدہ پانی کے ذرائع استعمال کرنے والے گھرانوں کی تعداد 9 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ بہتری پانی کی فراہمی کے نظام میں بتدریج بہتری کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر شہری اور نیم شہری علاقوں میں محفوظ پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے۔سروے کے دوران صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ فلش ٹوائلٹ کی سہولت رکھنے والے گھرانوں کا تناسب 80 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد ہو گیا ہے جبکہ کسی بھی قسم کی ٹوائلٹ سہولت سے محروم گھرانوں کی شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 12 فیصد سے 7 فیصد رہ گئی ہے۔ یہ بنیادی صفائی ستھرائی کی سہولیات میں واضح بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔توانائی تک رسائی کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

صاف ایندھن استعمال کرنے والے گھرانوں کی شرح، جن میں قدرتی گیس، ایل پی جی، شمسی توانائی، بجلی اور بایو گیس شامل ہیں، 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہو گئی ہے جو روایتی ٹھوس ایندھن کے استعمال میں بتدریج کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ 96 فیصد گھرانوں نے بجلی یا دیگر جدید روشنی کے ذرائع تک رسائی ہونے کی اطلاع دی ہیجو تقریبا مکمل کوریج کو ظاہر کرتا ہے۔سروے میں قابلِ تجدید اور متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصا شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو گھریلو سطح پر توانائی کے متنوع ذرائع اپنانے کی عکاسی کرتا ہے۔ صاف توانائی تک بہتر رسائی گھروں کے اندر فضائی آلودگی کم کرنے اور روایتی ایندھن پر انحصار گھٹانے کے ذریعے صحت کے بہتر نتائج میں مدد دیتی ہے۔پاکستان کے پہلے مکمل طور پر ڈیجیٹل گھریلو سروے 202425 سے ملک بھر میں معیارِ زندگی کے بارے میں جامع معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ نتائج پانی، صفائی ستھرائی اور توانائی تک رسائی میں مسلسل بہتری کو ظاہر کرتے ہیں تاہم ساتھ ہی اس بات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں کہ تمام علاقوں میں یکساں سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید سرمایہ کاری جاری رکھی جائے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک