آئی این پی ویلتھ پی کے

پنجاب کے 10 ہزار اساتذہ کو سائنس، ٹیکنالوجی اور ماحول دوست مہارتوں کی تربیت دی جائے گی،ویلتھ پاکستان

August 07, 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کے 10 کروڑ ڈالر کے مالی تعاون سے پنجاب کے سرکاری ہائی اسکولوں میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم) کی تعلیم کو فروغ دینے کا منصوبہ جون 2030 تک جاری رہے گا۔ یہ بات ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات میں سامنے آئی ہے۔یہ منصوبہ پنجاب میں تعلیم اور افرادی قوت کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔"پنجاب میں معیاری، جدید اور پائیدار اسٹیم ثانوی تعلیم" کے عنوان سے یہ منصوبہ دسمبر 2025 سے جون 2030 تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد خصوصا طالبات کے لیے معیاری اسٹیم تعلیم تک رسائی بڑھانا، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، جدید لیبارٹریاں قائم کرنا اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو مضبوط بنانا ہے۔دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے تحت جماعت نہم اور دہم میں کم از کم 50 ہزار نئے طلبہ کا داخلہ یقینی بنایا جائے گا جن میں کم از کم نصف طالبات ہوں گی۔منصوبے کے تحت کم از کم 2,300 اسکولوں میں جدید کثیر المقاصد اسٹیم لیبارٹریاں تعمیر یا اپ گریڈ کی جائیں گی جنہیں جدید سافٹ ویئر اور سائنسی آلات سے آراستہ کیا جائے گا۔اس منصوبے میں کم از کم 10 ہزار اساتذہ کو اسٹیم اور ماحول دوست مہارتوں کی تربیت دی جائے گی جبکہ اسٹیم اور گرین اسکلز کلب قائم کیے جائیں گے جن سے تقریبا 40 ہزار طالبات مستفید ہوں گی۔

اس کے علاوہ اسکولوں کی انتظامی صلاحیت بہتر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے اور کم از کم 100 اسکولوں میں لیبارٹریوں کا انتظام نجی شعبے کے تعاون سے چلایا جائے گا۔اسٹیم منصوبے کا مقصد طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانا اور انہیں جدید معیشت کی ضروریات کے مطابق تکنیکی اور تجزیاتی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔یہ منصوبہ 10 کروڑ ڈالر کے ایک دوسرے منصوبے "پنجاب میں افرادی قوت کی تیاری میں بہتری" کی تکمیل کرتا ہے جس کا آغاز فروری 2023 میں ہوا تھا اور اس کی تکمیل اگست 2029 میں متوقع ہے۔اس منصوبے کا مقصد فنی تعلیم اور روزگار کی منڈی کی ضروریات کے درمیان موجود فرق کو کم کرنا ہے۔ اس کے تحت 19 فنی و پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کو سنٹرز آف ایکسیلنس میں تبدیل کیا جائے گا اور تقریبا 37 ہزار طلبہ کو آٹھ ترجیحی شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔ان شعبوں میں آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، خوراک کی پراسیسنگ، ٹیکسٹائل، تعمیرات، صحت اور لائٹ انجینئرنگ شامل ہیں۔منصوبے کے تحت تقریبا 90 ہزار طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت بھی فراہم کی جائے گی جبکہ پنجاب کے فنی تعلیم کے انتظامی نظام اور لیبر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم کو بھی جدید بنایا جائے گا تاکہ افرادی قوت کی بہتر منصوبہ بندی ہو سکے اور پالیسی سازوں، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔دستاویزات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے جاری یہ دونوں منصوبے مجموعی طور پر 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہیں جن کا مقصد پنجاب میں انسانی وسائل کو مضبوط بنانا اور جدید معیشت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک