وفاقی حکومت نے جون 2026 تک ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری خیبر پاس اکنامک کوریڈور منصوبے پر 32 کروڑ 69 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کیے ہیں جبکہ نظرثانی شدہ لاگت میں سے 77 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی رقم منصوبے کی تکمیل کے اگلے مراحل میں خرچ کی جائے گی۔ منصوبہ مئی 2029 میں مکمل ہونے کا ہدف رکھتا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے اس منصوبے کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں 30 کروڑ روپے مقامی وسائل سے جبکہ 2.2 ارب روپے ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ فنڈز خریداری کے عمل میں پیش رفت اور بڑے تعمیراتی مرحلے کے آغاز کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی ایکنیک نے 16 جولائی 2020 کو منصوبے کی نظرثانی شدہ منظوری دی تھی جس کی مجموعی پی سی ون لاگت تقریبا 77 ارب 91 کروڑ روپے مقرر کی گئی۔ منصوبے کا مقصد پشاور کو طورخم سرحدی گزرگاہ سے ملانے والے شاہراہی ڈھانچے کو جدید بنانا ہے۔دستاویز کے مطابق یکم جولائی 2026 تک منصوبہ خریداری کے مرحلے میں تھا اور اس دوران مجموعی اخراجات 32 کروڑ 69 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچے جبکہ باقی 77 ارب 58 کروڑ روپے تعمیراتی اور عملدرآمد کے مرحلے میں خرچ کیے جائیں گے۔
تازہ ترین پیش رفت کے مطابق منصوبے میں خریداری اور ٹھیکوں کے مراحل جاری ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز ابھی ہونا باقی ہے۔خیبر پاس اکنامک کوریڈور کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانا اور وسطی ایشیا کے ساتھ مستقبل میں بہتر علاقائی رابطوں کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔منصوبے کے تحت سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا، سفر کا دورانیہ کم ہوگا، مال برداری میں آسانی پیدا ہوگی، پاکستان کے مصروف ترین بین الاقوامی تجارتی راستوں میں سے ایک پر سفری تحفظ میں اضافہ ہوگا جبکہ لاجسٹکس اور نقل و حمل کا نظام بھی زیادہ مثر بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ منصوبے سے خیبر پختونخوا میں منڈیوں تک رسائی بہتر ہونے، نجی سرمایہ کاری کے فروغ، علاقائی تجارت میں اضافے اور تعمیراتی و آپریشنل مراحل کے دوران روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔یہ منصوبہ پاکستان کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور علاقائی اقتصادی روابط کو وسعت دینے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد سرحد پار تجارت کے لیے زیادہ مثر راہداری میسر آئے گی، لاجسٹکس کے اخراجات کم ہوں گے اور پاکستان کا کردار جنوبی ایشیا، افغانستان اور وسطی ایشیا کو ملانے والی ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ راہداری کے طور پر مزید مضبوط ہوگا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک