آئی این پی ویلتھ پی کے

حکومت کا ٹیکنالوجی پر مبنی چاول کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ مکمل،ویلتھ پاکستان

August 07, 2026

حکومتِ پاکستان نے پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں چاول کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ مکمل کر لیا ہے جس کے تحت کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری 50 فیصد لاگت میں شراکتی بنیاد پر فراہم کی گئی تاکہ موجودہ اور ممکنہ پیداوار کے درمیان فرق کم کیا جا سکے۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ایک دستاویز کے مطابق حکومت نے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، معیاری زرعی وسائل تک بہتر رسائی اور کسانوں کی استعداد بڑھانے پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کی۔ یہ اقدامات 2019 سے 2025 تک جاری رہنے والے بڑے وفاقی ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی کے منصوبے "چاول کی پیداوار میں اضافہ" کے تحت کیے گئے۔منصوبے کے اہم اقدامات میں زرعی مشینی نظام کو فروغ دینا شامل تھاجس کے تحت لیزر لینڈ لیولرز، مکینیکل رائس ٹرانسپلانٹرز اور کمبائن ہارویسٹرز کسانوں کو 50 فیصد لاگت پر فراہم کیے گئے تاکہ جدید طریقہ کاشت کو فروغ دیا جا سکے اور کھیتوں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔دستاویز کے مطابق چاول کی پیداوار بڑھانے کے پروگرام کے تحت سمارٹ زراعت کو بھی فروغ دیا گیا جس میں درستگی پر مبنی کاشتکاری، براہِ راست بیج بونے کا طریقہ اور بہترین زرعی اصول شامل تھے تاکہ فصل کا بہتر انتظام ممکن ہو اور پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔پانی کے موثر استعمال کو بھی منصوبے کا اہم حصہ بنایا گیا۔ اس مقصد کے لیے وقفے وقفے سے آبپاشی اور زمین کو خشک رکھنے کا طریقہ، ڈرپ آبپاشی اور شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل متعارف کرائے گئے۔ دستاویز کے مطابق یہ اقدامات خاص طور پر چاول جیسی فصل میں پانی کے مثر استعمال اور پیداوار بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

حکومت نے جدید تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے زیادہ پیداوار دینے والی، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ چاول کی نئی اقسام کی تیاری اور متعارف کرانے پر بھی توجہ دی۔دستاویز کے مطابق بین الاقوامی چاول تحقیقاتی ادارہ اور چین سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے چاول کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ دیا گیا۔ایک اور سرکاری دستاویز میں گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار میں کمی کی مختلف وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔دستاویز کے مطابق گندم کی فصل میں کم پیداوار کی بڑی وجوہات میں تصدیق شدہ اور زیادہ پیداوار دینے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اقسام کا محدود استعمال، پرانے یا غیر تصدیق شدہ بیج، کھادوں کا غیر متوازن استعمال، زمین کی زرخیزی کا ناقص انتظام، کپاس، چاول یا گنے کے بعد تاخیر سے کاشت، فصل کے آخری مرحلے میں شدید گرمی اور زرعی مشینی سہولتوں کی کمی شامل ہیں۔چاول کے بارے میں دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے نمایاں چاول پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کے باوجود فی ایکڑ پیداوار میں کئی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ان میں بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی بڑھتی ہوئی لاگت، کسانوں کی محدود سرمایہ کاری کی صلاحیت، کم منافع کے باعث دوبارہ سرمایہ کاری میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات شامل ہیں۔مکئی کے حوالے سے دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی فی ہیکٹر اوسط پیداوار تقریبا 5.7 ٹن ہے جو خطے کے کئی ممالک سے بہتر ہے، تاہم مزید بہتری میں شدید گرمی اور خشک سالی، خصوصا بہار اور خزاں کی فصلوں میں، علاقے کے مطابق موزوں ہائبرڈ بیجوں کی محدود دستیابی، غیر ہائبرڈ مقامی اقسام کا مسلسل استعمال، چھوٹے کسانوں کے لیے تصدیق شدہ بیجوں کی کمی اور زیادہ قیمت، فصل اور جڑی بوٹیوں کے ناقص انتظام اور کھادوں کے غلط وقت اور طریقے سے استعمال جیسی رکاوٹیں حائل ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک