تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ممتاز رہنما محمد اشرف صحرائی کی برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی ۔مرحوم صحرائی کو سید علی گیلانی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا اور تحریک آزادی کشمیر میں ان کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔برسی کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس، پاسبان حریت اور سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کے زیر اہتمام مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔جن میں مرحوم اشرف صحرائی اور دیگر شہدائے آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ۔اس موقع پر دارالحکومت مظفر آباد میں میں بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا ، جس میں کارکنان اور عوام کی بڑی تعدا د نے شرکت کی ۔شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر آزادی کے حق میں نعرے درج تھے ۔مظاہرین نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میںنعرے بازی کی اور عالمی برداری کی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مبذول کرتے ہوئے
اقوام متحدہ کی قراردادوں ک مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھرپور کردار اداکرنے کا مطالبہ کیا اور شہدا کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعاد ہ کیا گیا ۔اس دوران آزادکشمیر کے دیگراضلاع میں بھی محمد اشرف صحرائی کی برسی منائی گئی اور تقریبات کااہتمام کیا گیا ۔یاد رہے کہ صحرائی کے بیٹے جنید صحرائی کو جون 2020 میں بھارتی فورسز نے ایک مبینہ جعلی آپریشن میں شہید کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق بھارتی حکام نے محمد اشرف صحرائی کو علالت کے باوجود پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا، دورانِ حراست ان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔اہل خانہ اور ذرائع کا کہنا ہے کہ صحرائی متعدد عارضوں میں مبتلا تھے اور دوران قید انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ ان کے اہل خانہ کو بھی ان کی صحت کی صورتحال سے لاعلم رکھا گیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی