ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہی، سندھ میں ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہوگئی۔کراچی میں دن بھر گرمی کا زور رہا، شہر قائد میں پارہ 38 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، اندرون سندھ میں بھی شدید گرمی رہی، مٹھی میں پارہ 44، میرپور خاص میں 42 اور حیدر آباد میں 40 ڈگری رہا۔شدید گرمی کے باعث تھرپارکر میں کنوں کا پانی خشک ہوگیا، تھر کی پہچان مور اور مویشیوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے، مقامی افراد پانی کے حصول کیلئے کئی کئی میل تک سفر کرنے پر مجبور ہوگئے۔بلوچستان کے جنوبی اضلاع بھی گرمی کی لپیٹ میں رہے، تربت میں درجہ حرارت 45 اور لسبیلہ 44 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔خیبرپختونخوا میں بادل برسنے کی نوید سنا دی گئی، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی بارش کا امکان پیدا ہوگیا۔دوسری جانب کراچی میں حالیہ شدید گرمی کے باعث پیٹ کی بیماریوں، خصوصا گیسٹرو کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔
جناح اسپتال کے حکام کے مطابق روزانہ 150 سے زائد مریض معدے کے امراض میں مبتلا ہو کر اسپتال کا رخ کر رہے ہیں جبکہ عام دنوں میں یہ تعداد تقریبا 50 ہوتی تھی۔اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض الٹی، دست، پیٹ درد اور ڈائریا جیسی علامات کے ساتھ آ رہے ہیں، جو آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک کے استعمال کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صاف اور ابلا ہوا پانی استعمال کریں، باسی اور کھلے کھانوں سے پرہیز کریں۔ماہرین نے تاکید کی ہے کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا اور صفائی کا خاص خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔گرمی کی شدت کے پیشِ نظر ماہرین نے زیادہ پانی، او آر ایس اور دیگر مشروبات کے استعمال کو بھی ضروری قرار دیا ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی سے بچا جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی