i پاکستان

محکمہ خوراک سندھ میں بدعنوانی اور غبن کیخلاف کریک ڈائون،کئی افسران برطرف،متعددکو شوکازنوٹس جاریتازترین

May 13, 2026

وزیر خوراک سندھ کی سخت ہدایت پر صوبائی محکمہ خوراک میں مبینہ بدعنوانی، گندم اسٹاک میں کمی اور غبن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کا آغاز ہو گیا۔وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان نے کرپشن کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کئی افسران برطرف کر دئیے اور متعدد کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق قبو سعید خان میں 65 ہزار 393 گندم کے تھیلوں کی خرد برد پر امان اللہ مگسی، ٹھل جیکب آباد میں گندم اسٹاک کی بڑی کمی پر فوڈ سپروائزر زیب علی مگسی، اور کندھ کوٹ میں 10 ہزار 300 میٹرک ٹن گندم کی کمی پر ظہیر احمد بروہی ملازمت سے برطرف کر دئیے گئے۔دربیلو میں 39 ہزار 550 پی پی بیگز گندم کی کمی پر مرتضی انڑ کو، اور PRC مورو میں 6 ہزار 194 پی پی بیگز گندم کی کمی پر امداد علی مگسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ امداد علی مگسی جواب جمع کرانے میں ناکام رہے اور 7 دن میں جواب نہ آیا تو ان کے خلاف یک طرفہ فیصلہ کیا جائے گا۔لاکھا روڈ پر 5 ہزار 376 اور کوٹری کبیر پر 5 ہزار 154 پی پی بیگز گندم کی کمی رپورٹ کی گئی

گندم اسٹاک کی کمی پر نبی بخش لغاری کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، پڈعیدن، نورپور اور محرابپور کے افسران کو بھی فائنل شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ محکمہ خوراک میں ان افسران کے خلاف شوکاز نوٹسز طویل عرصے سے زیرِ التوا تھے۔صوبائی وزیر خوراک نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا حکم دے دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں محکمہ خوراک میں کرپٹ عناصر کے خلاف گھیرا ئو تنگ کر دیا گیا ہے۔ تمام برطرف ملازمین سے سرکاری نقصان اور مارک اپ کی رقم وصول کی جائے گی۔انھوں نے واضح کیا کہ محکمہ خوراک میں کرپشن، غبن اور سرکاری گندم میں خردبرد کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، ملازمت سے برطرفی کے ساتھ ذمہ دار عناصر کے خلاف مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ خوراک میں اصلاحات نگرانی اور اسٹاک ویریفکیشن کے نظام کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی