شہر قائد کے علاقے لیاری میں شہریوں سے لوٹ مار کر کے فرار ہونے والے ایک ڈاکو کو شہری نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔جبکہ دوسرا ڈاکو شہری سے عید کے کپڑے اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگیا، ہلاک ہونے والا ڈاکو بلوچستان کا رہائشی تھا۔ تفصیلات کے مطابق بغدادی کے علاقے لیاری سیفی مسجد کے قریب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شہری کی فائرنگ سے ایک مبینہ ڈاکو ہلاک ہوگیا ، ہلاک ہونے والے ڈاکو کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال پہنچائی گئی۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مارے جانے والے مبینہ ڈاکو کی شناخت 30 سالہ نزاکت علی ولد محمد علی کے نام سے کی گئی۔پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا ملزم بلوچستان کے علاقے ویندر شامیانی لاکڑا لیاری کا رہائشی تھا۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار شلوار قمیض پہنے دو ڈاکو بغدادی کے رہائشی ایک نوجوان سے اس کے عید کے کپڑے اور موبائل فون چھین رہے تھے اسی دوران نوجوان نے مزاحمت کی جس پر ملزمان نے فائرنگ کر دی خوش قسمتی سے نوجوان ملزمان کی فائرنگ سے بچ گیا۔ اسی دوران ایک نامعلوم شہری نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی جو اسلحہ سے لیس تھا اور پیدل ہی فرار ہوگیا، اور نوجوان کی عید کے کپڑے اور موبائل فون بھی اپنے ہمراہ لے گیا۔
پولیس نے ہلاک ہونے والے ڈاکو کی زیر استعمال موٹرسائیل تحویل میں لے لی ہے اور ہلاک ہونے والے ڈاکو کی لاش پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کی تلاش شروع کر دی ہے ۔دریں اثا اورنگی ٹائون میں پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے کے دوران ملزم امیر بخش زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ۔پولیس حکام کے مطابق، ملزم کے قبضے سے چوری شدہ موٹر سائیکل اور 30 بور پستول برآمد ہوئے ہیں۔ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کے مطابق ملزم امیر بخش ڈکیتی، اسلحہ برداری، پولیس مقابلے اور کراچی سے موٹر سائیکلیں چھیننے اور چوری کرنے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے تھانہ ملیر کینٹ کی حدود سے چوری ہونے والی ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی ہے، جبکہ ملزم کے پاس سے 30 بور پستول کے خالی خول بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔مزید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم کراچی سے موٹر سائیکلیں چوری کرکے بلوچستان میں فروخت کرتا تھا، پولیس کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ملزم کے دیگر جرائم پیشہ گروپوں سے روابط ہیں۔ ملزم کے خلاف مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج ہیں اور اس کے ساتھی کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس کے دیگر جرائم اور ساتھیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ایس ایس پی بشیر احمد بروہی نے کہا کہ پولیس اور اے وی ایل سی کی ٹیموں نے ملزم کو گرفتار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی