کراچی کے علاقے کورنگی میں آئل ریفائنری کی گیس پائپ لائن میں خوفناک آگ لگ گئی، فائر بریگیڈ کی 10 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں ۔ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ مبینہ طور پر گیس پائپ لائن میں لگنے کے باعث پھیلی تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم آگ کے باعث قریبی علاقوں میں دھواں پھیل گیا جس سے مقامی رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی نقصان کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا۔فائر بریگیڈ حکام نے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دے دیا، پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ آگ آئل ریفائنری سے دور لگی ہے جبکہ سوئی سدرن کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا۔فائر آفیسر محمد ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ بجھانے نے کیلئے شہر بھر سے ٹینڈر طلب کر لئے گئے ہیں، پانی کی پائپ لائن کی بورنگ کے دوران گیس لائن کو نقصان پہنچا، آگ پراسرار ہے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کونسی لائن متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا ہے کہ آگ پر پانی پھینکا جا رہا ہے وہ دوبارہ اڑ کر واپس آ رہا ہے، ایس ایس جی سی کے عملے کو طلب کر لیا گیا ہے ، کسی ڈمپر یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے مٹی پھینکنے کی ضرورت ہے۔ آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل ڈیفنس فیز 8 سمیت مختلف علاقوں سے دیکھے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب پولیس کے مطابق آگ گیس پائپ لائن میں ہی لگی، پانی کی بورنگ کے دوران گیس لائن کو نقصان پہنچا۔ دریں اثناء گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے چیف فائر آفیسر سے رابطہ کر کے ہدایت کی ہے کہ آگ پر فوری قابو پایا جانا چاہیے۔گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے کمشنر کراچی سید حسن نقوی سے بھی فون پر رابطہ کرکے کورنگی کراسنگ میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے ہیلی کاپٹرکی فوری فراہمی ممکن بنانے کی ہدایت کی ہے۔گورنرسندھ نیچیف فائر آفیسر اور موقع پر موجود انجینئر سے بھی گفتگو ہوئی۔کامران ٹیسوری نے فائر آفیسر کو ہیلی کاپٹر کی فراہمی کیلئے متعلقہ حکام سے رابطے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ فائربریگیڈ کے عملے کو آگ بجھانے کیلئے ہر ممکن سہولت دی جانی چاہیے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی