وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن بدر کا مجھے علم نہیں، ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب زیادہ پھینٹی لگانا نہیں ہے،سافٹ اسٹیٹ کا مطلب جہاں آئین قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہوں، اب ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب مضبوط ریاست کے طور پر اپنا امیج بنانا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کیلئے سافٹ اسٹیٹ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، سافٹ اسٹیٹ کا مطلب جس میں آئین قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہوں، یعنی ریاست جس میں آئین قانون اور سسٹم کے تحت چلتی ہے۔سافٹ اسٹیٹ کا مطلب کہ قانون اور فورسز کمزور ہوچکی ہیں، اب ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب مضبوط ریاست کے طور پر اپنا امیج بنانا ہے، سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں کسی آپریشن کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب زیادہ پھینٹی لگانا نہیں ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آپریشن بدر کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔قومی سلامتی کمیٹی میں ایسے کسی آپریشن کی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تمام شرائط عمران خان کے گرد گھومتی ہیں، ان کا رہا کردیں، باہر لائیں اور پھر رہا کردیں۔پی ٹی آئی کی شرائط ہوتی ہیں کہ عمران خان کو ریلیف دیں اور باہر نکلالیں۔ایسا ماحول پاکستان میں پہلے کسی قیدی سے متعلق نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے بلاول بھٹو نے بیان دیا کہ سکیورٹی کمیٹی کی دوسری میٹنگ بھی ہونی چاہئے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی