آئی این پی ویلتھ پی کے

زرعی رقبوں کی تقسیم میں اضافہ، کھیتوں کا اوسط حجم گھٹنے سے زرعی پیداوار کا چیلنج سنگین ہوگیا،ویلتھ پاکستان

July 16, 2026

پاکستان میں 2010 سے 2024 کے دوران زرعی فارموں کی تعداد میں 34 فیصد اضافہ ہوا تاہم اسی عرصے میں فارموں کا اوسط رقبہ 17 فیصد کم ہو گیا جس سے زرعی زمین کی تقسیم بڑھنے، پیداوار، مشینی کاشت اور دیہی آمدنی کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو گئے ہیں۔پاکستان ادارہ شماریات کی زرعی مردم شماری 2024 کی قومی رپورٹ کے مطابق 2010 میں ملک بھر میں فارموں کی تعداد 82 لاکھ 64 ہزار تھی جو 2024 میں بڑھ کر ایک کروڑ 11 لاکھ 4 ہزار ہو گئی۔ اس کے برعکس ایک فارم کا اوسط رقبہ 6.4 ایکڑ سے کم ہو کر 5.3 ایکڑ رہ گیا۔رپورٹ کے مطابق مجموعی زرعی رقبہ 5 کروڑ 29 لاکھ 10 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر 5 کروڑ 93 لاکھ 1 ہزار ایکڑ ہو گیا یعنی 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح زیرِ کاشت رقبہ 4 کروڑ 26 لاکھ 22 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر 5 کروڑ 27 لاکھ 88 ہزار ایکڑ تک پہنچ گیا، جو 24 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم فارموں کے اوسط حجم میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زرعی زمین زیادہ کسانوں میں تقسیم ہو رہی ہے اور ملک میں چھوٹے زرعی رقبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ماہرین کے مطابق چھوٹے اور بکھرے ہوئے فارموں پر جدید زرعی مشینری کا استعمال، آبپاشی میں سرمایہ کاری، بینکوں سے قرضوں تک رسائی اور بڑے پیمانے پر کاشت کے فوائد حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کے لیے زرعی امداد، جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اور کسانوں کو مشاورتی خدمات پہنچانا بھی زیادہ دشوار ہو جاتا ہے۔صوبہ وار اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں فارموں کی تعداد سب سے زیادہ 50 لاکھ 50 ہزار رہی جو ملک کے مجموعی فارموں کا 45 فیصد بنتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 35 لاکھ 80 ہزار فارم (32 فیصد)، سندھ میں 18 لاکھ 30 ہزار اور بلوچستان میں 6 لاکھ 30 ہزار فارم ریکارڈ کیے گئے۔زرعی رقبے کے لحاظ سے پنجاب 3 کروڑ 10 لاکھ 40 ہزار ایکڑ کے ساتھ بدستور پہلے نمبر پر رہا جو قومی زرعی رقبے کا 52 فیصد ہے۔ بلوچستان میں اگرچہ فارموں کی تعداد صرف 6 فیصد ہے لیکن اس کے پاس مجموعی زرعی رقبے کا 17 فیصد موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں فارموں کا اوسط حجم دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ بلوچستان میں ایک فارم کا اوسط رقبہ 16.1 ایکڑ ریکارڈ کیا گیاجبکہ قومی اوسط 5.3 ایکڑ رہی۔رپورٹ کے مطابق بکھرے ہوئے فارموں کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔

یہ تعداد 2010 میں 28 لاکھ 29 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 49 لاکھ 84 ہزار ہو گئی، یعنی 76 فیصد اضافہ ہوا۔ مزید یہ کہ ایک بکھرے ہوئے فارم کے مختلف حصوں کی اوسط تعداد 3 سے بڑھ کر 7 ہو گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی تقسیم نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ بھی ہوتی جا رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی کسان کی زمین اگر مختلف مقامات پر بکھری ہو تو مزدوروں، زرعی مشینری، پانی اور دیگر زرعی وسائل کی نقل و حرکت پر زیادہ لاگت آتی ہے۔ اس کے علاوہ آبپاشی کے انتظام اور فصلوں کی نگرانی بھی کم مثر ہو جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کو صرف زیرِ کاشت رقبہ یا پیداوار بڑھانے پر توجہ دینے کے بجائے زرعی زمین کی بڑھتی ہوئی تقسیم کے مسئلے سے بھی نمٹنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک زمین کی تقسیم، چھوٹے کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے مسائل حل نہیں کیے جاتے، فارموں کی تعداد میں اضافہ خودبخود کسانوں کی آمدنی میں اضافے کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک