اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2028 کے آغاز سے قبل شریعت کے مطابق مالیاتی پالیسی کا مکمل نظام نافذ کرنے کی تیاری تیز کر دی ہے۔ یہ اقدام ملک میں 2027 کے بعد سود سے پاک مالیاتی نظام کے قیام کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے قیمتوں میں استحکام سے متعلق مرکزی بینک کی آئینی ذمہ داری کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب "2027 کے بعد پاکستان کا مالیاتی نظام" سے متعلق حکمتِ عملی دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک اپنی مالیاتی کارروائیوں کو شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ بنانے میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے جبکہ آئینی مدت ختم ہونے سے پہلے منتقلی کا عمل مکمل کرنے کے لیے مزید اصلاحات بھی جاری ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ بھی مالیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا ہی رکھے گا تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے روایتی سودی ذرائع کے بجائے بتدریج شریعت کے مطابق مالیاتی آلات اور طریقہ کار استعمال کیے جائیں گے۔ حکمتِ عملی کے مطابق اسٹیٹ بینک بینکاری نظام میں رقوم کی فراہمی کے لیے شریعت سے ہم آہنگ اوپن مارکیٹ آپریشنز پہلے ہی متعارف کرا چکا ہے۔
اسی طرح ضرورت پڑنے پر بینکوں کو مالی سہولت فراہم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق خصوصی سہولت بھی فعال ہے جبکہ رقوم جذب کرنے اور سرمایہ رکھنے کی مزید سہولتیں اس وقت مکمل طور پر فعال ہوں گی جب مارکیٹ میں سرکاری صکوک کی مناسب مقدار دستیاب ہوگی۔ دستاویز کے مطابق حکومت کی جانب سے زیادہ تعداد میں صکوک کے اجرا سے اسٹیٹ بینک کو نئے مالیاتی نظام کے تحت رقوم کی فراہمی اور واپسی مثر انداز میں منظم کرنے میں مدد ملے گی جس سے مالیاتی نظم و نسق شریعت کے اصولوں کے مطابق چلایا جا سکے گا۔ حکمتِ عملی میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مالیاتی پالیسی کے موجودہ نظام کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ شریعت کے اصولوں سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق موجودہ نظام بڑی حد تک اسلامی مالیات سے ہم آہنگ ہے اور منتقلی مکمل کرنے کے لیے صرف چند عملی تبدیلیاں درکار ہیں۔ یہ جائزہ دسمبر 2027 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق صرف مالیاتی پالیسی ہی نہیں بلکہ پورے مالیاتی شعبے کے ضابطہ جاتی اور نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام نے ان قوانین میں ضروری ترامیم کی نشاندہی کر لی ہے جو مکمل شریعت سے مطابقت کے لیے درکار ہیں جبکہ باقی ترامیم مشاورت کے بعد دسمبر 2027 سے پہلے نافذ کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی ضابطہ جاتی نظام عالمی معیار کے مطابق ہی رہے گا اور بینکاری نگرانی، مالیاتی استحکام، حساب داری، سرمایہ کاری، انشورنس اور اسلامی مالیاتی خدمات سے متعلق بین الاقوامی اداروں کے مقرر کردہ اصولوں سے ہم آہنگ رکھا جائے گا۔ دستاویز میں بینکاری نظام کے استحکام کے لیے شریعت کے مطابق حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اسلامی بینکوں کے لیے ہنگامی مالی معاونت کی سہولت پہلے ہی موجود ہے جبکہ اسلامی بینکاری اداروں میں اہل کھاتہ داروں کے ذخائر کے تحفظ کے لیے اسلامی ڈپازٹ پروٹیکشن اسکیم بھی فعال ہے۔ اس کے علاوہ مالیاتی اداروں کی بحالی اور ان کے مسائل کے حل سے متعلق نظام کو بھی 2027 کے بعد کے مالیاتی ڈھانچے سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔ حکمتِ عملی میں روایتی بینکوں کی اسلامی بینکاری میں منتقلی کے دوران جمع شدہ منافع کے معاملے پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک کے ماہرین، شریعہ علما اور بینکاری شعبے کے ماہرین پر مشتمل خصوصی ورکنگ گروپ نے شریعت کے مطابق متعدد متبادل تجاویز تیار کی ہیں جن میں سے بعض کو اسٹیٹ بینک کی شریعہ مشاورتی کمیٹی منظور کر چکی ہے، جبکہ باقی تجاویز کی منظوری بھی متوقع ہے۔ دستاویز کے مطابق ان تمام اصلاحات کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کا مالیاتی پالیسی کا نظام، ضابطہ جاتی ڈھانچہ اور مالیاتی تحفظ کے انتظامات معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے 2027 کے بعد مکمل طور پر شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی نظام کی جانب ہموار اور محفوظ منتقلی کو یقینی بنا سکیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک