پاکستان نے آم کی برآمدات کو روایتی منڈیوں تک محدود رکھنے کے بجائے نئی بین الاقوامی منڈیوں تک وسعت دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ تحفظ نباتات نے چین میں اہم پیش رفت حاصل کی ہے جبکہ متعدد دیگر امکانات رکھنے والے ممالک سے بھی برآمدی منظوری حاصل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سرکاری دستاویزات کے مطابق محکمہ تحفظ نباتات درآمد کنندہ ممالک کے قومی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی آموں کے لیے مزید عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ حکومتی برآمدی حکمت عملی کے تحت آم کی مزید اقسام اور نئے پروسیسنگ مراکز کی منظوری حاصل کرنے کے ساتھ نئی برآمدی منڈیاں بھی تلاش کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت چین میں ہوئی ہے جہاں پاکستانی آموں کے لیے گرم پانی سے جراثیم کشی کی مزید سات سہولتوں کی رجسٹریشن کر دی گئی ہے۔ اس سے عالمی قرنطینہ اور نباتاتی صحت کے تقاضوں کے مطابق آموں کی برآمدی تیاری کی پاکستان کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ دستاویزات کے مطابق پاکستان اس وقت 35 ممالک کو آم برآمد کر رہا ہے، جبکہ 70 سے زائد ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے۔ محکمہ تحفظ نباتات اس وسیع رسائی کو عملی برآمدات میں تبدیل کرنے کے لیے مختلف ممالک کو کیڑوں کے خطرات کے تجزیاتی ریکارڈ، علاج کے طریقہ کار، تکنیکی معلومات، تعمیل سے متعلق دستاویزات اور قرنطینہ سے متعلق سوالات کے جوابات فراہم کر رہا ہے۔
محکمہ نے منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے آن لائن اور موقع پر تصدیقی نظام بھی قائم کیا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ دوطرفہ اجلاس منعقد کیے ہیں تاکہ پاکستان کے نباتاتی صحت کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہو اور بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد ثابت کیا جا سکے۔ آسٹریلیا بھی پاکستان کی جانب سے مزید ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ مراکز کی منظوری کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس حوالے سے 15 اپریل 2026 کو دونوں ممالک کے درمیان ورچوئل اجلاس ہوا۔ اس وقت آسٹریلیا پہلے ہی پاک ہورٹی فریش، افتخار احمد اینڈ کمپنی، مصطفی ایگریکلچر فارم اور پیراس فوڈ کی ایک شعاعی جراثیم کشی سہولت کو آم برآمد کرنے کی منظوری دے چکا ہے جبکہ مزید درخواستوں پر غور جاری ہے۔ جاپان میں بھی پاکستان مزید پیش رفت کا خواہاں ہے۔ اس وقت پاکستان ایک ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ذریعے جاپان کو آم برآمد کر رہا ہے۔ جاپان اضافی ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ اور انور رٹول، دسہری، باغان پھلی اور نیلم سمیت مزید اقسام کی منظوری پر غور کر رہا ہے۔ جاپان کی وزارت زراعت کی جانب سے چونسا کی ذیلی اقسام سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی جس کا جواب پاکستان نے 3 جون 2026 کو جمع کرا دیا۔ اسی طرح جنوبی کوریا سے مزید ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ سہولتوں کی منظوری کی درخواست کی گئی ہے جبکہ ترکیہ، اردن اور جنوبی افریقہ کے ساتھ بھی تکنیکی مشاورت، تصدیقی عمل اور دوطرفہ رابطوں کے ذریعے منڈیوں تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔ دستاویزات کے مطابق اردن کے قومی ادارہ تحفظ نباتات کا وفد 20 سے 31 جولائی 2026 کے دوران پاکستان کا دورہ کر کے آم کی پراسیسنگ سہولتوں کا معائنہ کرے گا۔ اس دورے کے لیے اردن کی وزارت زراعت سے منظوری کا عمل جاری ہے۔
جنوبی افریقہ نے 10 اور 11 جون 2026 کو پاکستانی آموں کی پراسیسنگ سہولتوں کی آن لائن جانچ مکمل کر لی تھی۔ اس حوالے سے موصول ہونے والا جواب اس وقت زیرِ غور ہے۔ امریکا کے ساتھ بھی معاملہ تکنیکی جائزے کے مرحلے میں ہے۔ پاکستان نے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ، ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ اور شعاعی جراثیم کشی کے طریقہ کار سے متعلق اضافی معلومات فراہم کر دی ہیں۔ امریکی حکام پاکستانی شعاعی جراثیم کشی مراکز کے لیے قبل از آمد منظوری کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ 11 مئی 2026 کو موصول ہونے والے غیر رسمی جواب میں بتایا گیا تھا کہ معاملہ امریکی ماہرین کی جانچ کے مرحلے میں ہے۔ محکمہ تحفظ نباتات ویتنام، میکسیکو، تھائی لینڈ، ارجنٹائن اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی زیر التوا معاملات پر مسلسل رابطے میں ہے۔ ویتنام نے بتایا ہے کہ وہ آلو، کینو اور آم کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹا رہا ہے جبکہ میکسیکو، تھائی لینڈ اور ارجنٹائن کے ساتھ تکنیکی کارروائی جاری ہے۔ بنگلہ دیش نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی آموں کی درآمد کے لیے نباتاتی صحت کی شرائط جلد پاکستان کو فراہم کر دی جائیں گی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان بیک وقت کئی محاذوں پر آم کی برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ چین میں سات نئی سہولتوں کی رجسٹریشن اور دیگر ممالک میں منظوری کے جاری عمل سے توقع ہے کہ پاکستانی آم مزید عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں گے اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک