پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹر و وکٹ کیپر محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)لاہور آفس میں پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان کو تاحال موبائل فون واپس نہیں کیا گیا، رضوان کو انکوائری شروع ہونے سے قبل تقریبا دو گھنٹے انتظار کروایا گیا، وکٹ کیپر سے انکوائری کا دورانیہ انتہائی مختصر رہا۔محمد رضوان سے موبائل فون کے استعمال کے حوالے سے سوالات کیے گئے، انہیں بتایا گیا کہ موبائل فون فارنزک کے لیے بھیجا گیا ہے، رضوان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دورانِ انکوائری نہیں دیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کے کیپر محمد رضوان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جلد جوابات دینے کا عندیہ دیا گیا ہے، دورانِ انکوائری ضرورت پڑنے پر رضوان کو دوبارہ این سی سی آئی اے طلب کیے جانے کا عندیہ بھی دیا گیا، جبکہ قومی ٹیم کے کھلاڑی سے انکوائری خوشگوار ماحول میں ہوئی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی