ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشوں کا آغاز ہوگیا ، سندھ، خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں ہونے والی بارشوں سے جہاں گرمی کا زور ٹوٹ گیا، وہیں کئی شہروں میں نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ندی نالوں میں طغیانی، بجلی کی فراہمی میں تعطل اور حادثات کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سندھ کے ضلع تھرپارکر میں مون سون کی پہلی بارش نے موسم خوشگوار بنا دیا۔ ننگرپارکر، اسلام کوٹ، تھرکول، مٹھی، عمرکوٹ اور ڈانو دھاندل سمیت مختلف علاقوں میں بارش سے جل تھل ایک ہوگیا جبکہ خشک سالی سے متاثرہ علاقے میں بارش کے بعد لوگوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں جی ٹی روڈ سمیت مختلف علاقوں کو جانے والی رابطہ سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں۔ نشیبی علاقے زیرآب آگئے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پشاور میں تیز آندھی اور موسلادھار بارش سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔ ریسکیو ترجمان کے مطابق مختلف مقامات پر دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔بارش سے پشاور کے مضافاتی علاقے فقیر کلے، پخہ غلام، چغلپورہ، شاہ عالم پل اور یوسف آباد زیادہ متاثر ہوئے۔
تیز ہوائو ں اور بارش کے باعث متعدد گرڈ اسٹیشنز سے بجلی کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔ حکام کے مطابق پشاور کے 12 گرڈز سے منسلک 200 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرگئے، جس سے شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔اسلام آباد سمیت خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں بھی تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک میں طوفانی ہواں کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا اور شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں بھی تیز آندھی کے ساتھ بارش ہوئی، جس کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ محکمہ موسمیات نے پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالا، لاہور اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بعض ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آئندہ 2 روز کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، فیصل آباد، خوشاب اور سرگودھا میں بارش متوقع ہے، ساہیوال، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ اور گردونواح میں بارش کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ چنیوٹ، اوکاڑہ، قصور، نورپور تھل، بھکر، میانوالی، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، رحیم یار خان اور راجن پور میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید کے مطابق وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے پیش نظر صوبے بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، بارشوں کے باعث دریائوں اور ندی نالوں کے بہاو میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے ہدایت کی کہ آسمانی بجلی سے بچائوکیلئے محفوظ مقامات پر رہیں، آسمانی بجلی کی گرج چمک کے دوران کھلے مقامات تلے ہرگز نہ جائیں، گردوغبار اور تیز آندھی کے پیش نظر محفوظ مقامات پر رہیں، سیاح شمالی علاقہ جات کے سفر میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مون سون کی فعال بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے عوام اور مسافروں کو الرٹ کر دیا ہے، محکمہ کے مطابق آئندہ24گھنٹوں میں کو صوبے کے کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشیں متوقع ہیں، جو نہ صرف زرعی سرگرمیوں کے لیے خوش آئند ہیں بلکہ سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ژوب، شیرانی، کوہلو، نصیر آباد اور ڈکی اضلاع میں عام بارش کا امکان ہے جبکہ ہرنائی، لورالائی، سبی، بارکھان، موسی خیل، خضدار، ڈیرہ بگٹی اور ان کے گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش متوقع ہے، بعض مقامات پر موسلا دھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام نے بتایا کہ مون سون کی یہ لہر بلوچستان کے بیشتر بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرے گی۔بارشوں کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بعض ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔محکمہ موسمیات نے عام شہریوں بالخصوص مسافروں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے مکمل طور پر گریز کریں۔ خاص طور پر پہاڑی راستوں، نشیبی سڑکوں اور ندیوں کے قریب سفر کرتے وقت احتیاط برتی جائے۔ اگر سفر ناگزیر ہو تو تازہ ترین موسمیاتی اپ ڈیٹس چیک کیے جائیں اور احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔ماہرین کے مطابق ان بارشوں سے صوبے کے خشک علاقوں میں زرعی سرگرمیوں کو نئی جان مل سکتی ہے۔ مویشی پالنے والوں کے لیے چارے کی دستیابی بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم، پرانی عمارتوں، کمزور انفراسٹرکچر اور کچی سڑکوں والے علاقوں میں نقصان کا اندیشہ بھی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی