i پاکستان

سندھ کابینہ کا اجلاس، دریائے سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان نئے پل کے ڈیزائن کی منظوریتازترین

May 05, 2026

سندھ کابینہ نے دریائے سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان نئے پل کے ڈیزائن کی منظوری دیدی۔وزیر اعلی مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ترجمان وزیراعلی کے مطابق اجلاس میں 25 نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ سندھ کابینہ نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے اربوں روپے کی منظوری دے دی۔ سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان نئے پل کے ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا نیا پل اندرونِ ملک ٹریفک کی آمد رفت کے لئے بڑی سہولت ثابت ہوگا۔اس کے علاوہ سندھ کابینہ نے کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لئے 6.5 ارب روپے کی منظوری بھی دی اور اس حوالے سے مراد علی شاہ کا کہنا تھا شہرکی سڑکوں کی مرمت جلد شروع کی جائے اور فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔کابینہ نے کراچی شہر کے ایس 3 منصوبے کے لئے 2 ارب روپے کی منظوری دی جبکہ ضلعی عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے 48.9 ملین روپے مختص کیے گئے۔وزیراعلی کا کہنا تھا عدالتی نظام کو جدید اور عوامی سہولیات بڑھانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اہم قدم ہے۔ سندھ کابینہ نے مورو میں 4 نئی عدالتوں کی تعمیر کے لئے 432.597 ملین روپے بھی منظور کیے جبکہ دادو میں پیر الہی بخش لا کالج کیلئے 25 ملین روپے گرانٹ منظور کی گئی۔

اجلاس میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جن کے تحت دادو میں پیر الہی بخش لا کالج کے لئے 25 ملین روپے، جبکہ سکھر کے غلام محمد میڈیکل کالج ہسپتال میں 50 بستروں پر مشتمل ٹراما سینٹر کے قیام کے لیے 635.48 ملین روپے منظور کیے گئے، وزیراعلی نے ہدایت کی کہ یہ ٹراما سینٹر جون 2026 تک فعال کیا جائے۔مزید برآں عمرکوٹ میں یتیم خانے کے قیام کے لیے 80 ملین روپے، جبکہ سینٹ پیٹرک ہائی سکول میں ای سی سی ای بلاک کے لیے 90 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سندھ جاب پورٹل کے لیے 86.535 ملین روپے اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے انڈس اے آئی ویک 2026 کے انعقاد کی بھی منظوری دی۔سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے واجبات کی ادائیگی کے لئے 615.7 ملین روپے کی منظوری دی گئی، تاہم اسے تنظیمِ نو سے مشروط کیا گیا، جبکہ نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے 421 ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔دیگر منصوبوں میں حیدرآباد میں قبرستان کیکیلئے 252.206 ملین روپے، قاسم آباد میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے 800 ملین روپے، انڈر پاس اور لنک روڈ کیلئے 0.8 ارب روپے، جبکہ لطیف آباد میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کیلئے 0.5 ارب روپے کی منظوری شامل ہے۔مزید برآں، شیخ ایاز روڈ کی توسیع اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لئے 1.2 ارب روپے جبکہ مختلف علاقوں میں ڈرین نالے کی تعمیر کے لیے 0.9 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی۔وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے صوبے میں انفرااسٹرکچر، صحت، تعلیم اور عوامی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی