i پاکستان

شدید گرمی میں گردوں کی حفاظت کیلئے درست طریقے سے پانی اور غذائی اجزا کا استعمال ضروری ہے،ماہرینتازترین

April 10, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت گرمی کے دوران جسمانی درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی گردوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے، جس سے گردوں کی پتھری اور الیکٹرولائٹ عدم توازن جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق 37 ڈگری سے زائد درجہ حرارت والے ہیٹ ویو اب عام ہو چکے ہیں، جن کے دوران صرف زیادہ پانی پینا ہی کافی نہیں بلکہ درست طریقے سے پانی اور غذائی اجزا کا استعمال ضروری ہے، پسینے کے ذریعے پانی کی کمی کے باعث کیلشیم، آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ کرسٹل بن کر پتھری پیدا کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایک ساتھ بہت زیادہ پانی پینا خون میں سوڈیم کو کم کر کے تھکن، سر درد اور چکر کا باعث بن سکتا ہے جبکہ سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال گردوں پر دبا بڑھاتا ہے۔

ابتدائی علامات میں پیشاب کا گاڑھا ہونا بدبودار ہونا یا پھر اس کی مقدار میں کمی شامل ہے، اسی طرح پیشاب کے دوران ہلکی جلن، مسلسل پیاس اور تھکن، کمر یا پہلو میں درد بھی اس کی علامات میں شامل ہیں، اس سب سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ دن بھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے پانی پئیں، اور صرف پیاس لگنے پر ہی نہیں پئیں، ویسے بھی پیتے رہیں۔ماہرین کے مطابق سخت جسمانی کام کرنے والے افراد معتدل الیکٹرولائٹ سپلیمنٹ لے سکتے ہیں، احتیاطی تدبیر بتاتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ سبزیاں اور ٹھنڈے پھل زیادہ استعمال کریں، سخت دھوپ یا ورزش کے بعد فورا ٹھنڈا شاور نہ لیں اور پیشاب میں تبدیلی یا کمر درد کو نظرانداز نہ کریں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی