سانحہ گل پلازہ کیس میں پولیس نے مقدمے کا چالان پراسیکیوشن کے پاس جمع کروا دیا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کو حادثاتی قرار دیا گیا ہے، جبکہ فرانزک رپورٹ میں بھی کسی قسم کے دھماکہ خیز مواد کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق پولیس نے دکاندار نعمت اللہ اور اس کے بیٹے 11 سالہ حذیفہ کو بھی مقدمے میں ملزم نامزد کیا ہے، گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکرٹری محمد امین، جوائنٹ سیکرٹری محمد رمضان کو بھی ملزم نامزد کیا ہے، پولیس نے تمام ملزمان کو مفرور قرار دیا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کے نتیجے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے، چار لاشوں کے باقیات تاحال کسی نے حاصل نہیں کئے، تحقیقات کے دوران چار عینی شاہدین کے 164 کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے۔پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ کے مطابق فرانزک میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں پایا گیا، آگ کی شروعات دکان نمبر193 سے ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق دکاندار نعمت اللہ اکثر اوقات دکان اپنے گیارہ سالہ بیٹے کے سپرد کرکے چلا جاتا تھا، تاہم حذیفہ کی جانب سے ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینکے سے مصنوعی پھولوں میں آگ لگی، نعمت اللہ اور حذیفہ غفلت و لاپرواہی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمر بچے کو دکان پر کام سے نا روکنا مارکیٹ یونین کی غفلت ہے، آتشزدگی کے بعد مارکیٹ یونین کی طرف سے ایمرجنسی اطلاع اور مدد طلب نہیں کی گئی۔آتشزدگی کے دوران گل پلازہ کے مکمل گیٹ بند ہونا اور یونین کی جانب سے بروقت گیٹ نہیں کھلوائے گئے، جس کے باعث دروازے بند ہونے سے لوگوں کو باہر نکلنے میں مشکلات ہوئیں، دروازے بند ہونا انتظامیہ کی غفلت ہے۔یونین صدر تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو فون کرکے بجلی بند کروائی، اندھیرے کی وجہ سے لوگ مارکیٹ کے اندر پھنسے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی