وزیر دفاع خواجہ آصف نے ہا ہے کہ اگر پانی کے معاملے پر قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے تو بھارت سے جنگ کی طرف جانا ہوگا۔ ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت جس طرح کہتا ہے کہ ہماری کھلی جنگ ہے تو اسی طرح جنگ ہوگی، ہماری حکومت پانی کے معاملے کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے کہ کہاں خلاف ورزی ہو رہی ہے، بطور وزیر پانی و بجلی بھی واٹر ٹریٹی پر بہت اثر انداز کام ہو رہا تھا، 10 سال پہلے پاکستان نے بھارت جا کر 115 بار جائزہ بھی لیا تھا۔خواجہ آصف نے کہا کہ یقین ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکے گا، پچھلے سال سیلاب میں بھارت سے زندہ لوگ، جنگلی جانور اور گھر بہہ کر آئے تھے، جس طرح کہا جا رہا ہے کہ بھارت پانی روک لے گا تو کیا ریگستان میں پانی چھوڑے گا؟۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پچھلے سال بھارت کو معرکہ حق میں شکست ہوئی اور دنیا میں اس کی بے عزتی ہوئی، لیکن دوسری جانب ایک سال میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو بڑھایا، وزیر اعظم شہباز اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی اہمیت دنیا میں بڑھی، آج انہوں نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس پر اسلام آباد کا نام بھی ہے، اللہ جو پاکستان کو عزت عطا کر رہا ہے یہ بھی بھارت کی بوکھلاہٹ کی وجہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جنگ شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر بھارت کوئی قدم اٹھائے گا تو ہم ضرور اس سے جنگ کریں گے، بھارت نے اب تک جتنے بھی پروجیکٹس شروع کیے پاکستان کی ان پر نظر ہے، پانی کے معاملے پر قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے تو بھارت سے جنگ کی طرف جانا ہوگا، انسان پانی سے پیدا ہوا ہے پوری دنیا اسی سے چل رہی ہے یہ کیسے پانی روک سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی