i پاکستان

پاکستان میں تین کروڑ 40 لاکھ بچے موسمیاتی خطرات سے دوچارتازترین

July 10, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی بچوں کے مستقبل پر منڈلاتا بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کے تین کروڑ 40 لاکھ بچے شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور سیلابی خطرات کی زد میں ہیں۔شدید گرمی ہو، ہیٹ ویو یا اچانک آنے والے سیلابی ریلے، موسمیاتی تبدیلی کا ہر وار سب سے پہلے بچوں پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 3 کروڑ 40 لاکھ بچے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں شدید گرمی، خشک سالی اور فلیش فلڈز ان کی زندگی اور صحت کے لیے مسلسل خطرہ بن چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق شمالی علاقوں میں دریا، ندی نالوں اور گلیشیئرز کے قریب آباد بچے فلیش فلڈز کے خطرات سے دوچار ہیں، جبکہ میدانی اور صحرائی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لیے ہیٹ ویوز اور شدید درجہ حرارت سب سے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرمی کے آئندہ چند ہفتے والدین کو بچوں کے تحفظ، پانی کی کمی سے بچائو اور احتیاطی تدابیر پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے یہی خطرات خطے کے تقریبا 29 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جن میں پاکستان، نائجیریا اور بھارت کے کروڑوں بچے شامل ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی