تحریر: آصفہ زہرہ
اسلام آباد میں بارش ہو رہی تھی۔
مارگلہ کی پہاڑیوں سے اترنے والا پانی پوری روانی سے سڑکوں پر بہہ رہا تھا۔ برساتی نالے لبریز تھے، درخت دھل چکے تھے اور گرمی کی شدت کئی گھنٹوں کے لیے ٹوٹ گئی تھی۔ لیکن اسی شام سیکٹر جی تھرٹین کی ایک گلی میں ایک واٹر ٹینکر ایک گھر کے سامنے رکا۔ چند ہزار روپے ادا کیے گئے اور پانی کا ٹینک بھر دیا گیا۔ ایک طرف سیلابی ریلوں کی خبریں تھیں، دوسری طرف لوگ پانی خریدنے پر مجبور تھے۔ یہ منظر صرف عجیب نہیں بلکہ افسوسناک بھی ہے۔ یہ صرف اسلام آباد کی کہانی نہیں۔ کراچی سے کوئٹہ، لاہور سے راولپنڈی تک پانی اب نعمت کم اور کاروبار زیادہ بنتا جا رہا ہے۔ کہیں لوگ سرکاری سپلائی کے منتظر ہیں، کہیں بورنگ کے ذریعے زیرِ زمین پانی نکالا جا رہا ہے، اور جہاں یہ دونوں راستے ناکام ہو جائیں وہاں واٹر ٹینکر ہی زندگی کا سہارا بن جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ لوگ پانی کیوں خرید رہے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آج بھی مسلسل پانی برسا رہا ہے تو پھر پاکستان پیاسا کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
قرآن مجید اس سوال کا جواب چودہ سو برس پہلے ہی دے چکا ہے۔
"اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی برسایا، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا، اور یقیناً ہم اسے لے جانے پر بھی قادر ہیں۔"
(سورۃ المؤمنون: 18)
اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی کے پورے نظام کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ پانی صرف آسمان سے نہیں برستا بلکہ زمین کے اندر بھی محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ آنے والے موسموں اور انسانی ضروریات کا سہارا بن سکے۔
یہیں سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔
کیا پاکستان میں واقعی پانی کی کمی ہے، یا ہم پانی کو زمین میں محفوظ کرنا بھول گئے ہیں؟
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں فی کس سالانہ پانی کی دستیابی ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ عالمی معیار کے مطابق یہ وہ حد ہے جہاں کسی ملک کو شدید آبی قلت (Water Scarcity) کا شکار سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافہ، پانی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت، زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور ناقص آبی انتظام اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
لیکن اعداد و شمار کا ایک اور رخ بھی ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بارش کم ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ بارش کا مزاج بدل چکا ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال میں مون سون کے دوران معمول سے 22.6 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، مگر یہ پورے موسم میں یکساں نہیں ہوئی بلکہ چند شدید اسپیلز کی صورت میں برسی، جنہوں نے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی۔ اس کے برعکس سردیوں کی بارشیں، جو زیرِ زمین آبی ذخائر کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، معمول سے 12.3 فیصد کم رہیں۔
گویا قدرت کا نظام تبدیل ہو رہا ہے۔
بارش اب کم دنوں میں زیادہ شدت سے ہوتی ہے۔ چند گھنٹوں میں اتنا پانی برستا ہے کہ شہر ڈوب جاتے ہیں، مگر یہی پانی تھوڑی ہی دیر بعد برساتی نالوں، دریاؤں اور آخرکار سمندر کا رخ کر لیتا ہے۔
مگر یہی پانی کچھ ہی دیر بعد برساتی نالوں، دریاؤں اور آخرکار سمندر میں جا گرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے پاس پانی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے سنبھالنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے شمال میں دنیا کے سب سے بڑے غیر قطبی گلیشیئر موجود ہیں، جو ہر سال دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ابتدا میں اس سے دریا بھرے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ خطرہ اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جو پانی آج ہمارے پاس موجود ہے، ہم اس کا استعمال اور انتظام کس طرح کر رہے ہیں؟
پاکستان کے پاس تقریباً 64 ہزار کلومیٹر طویل نہری نظام موجود ہے، جبکہ حکومت نئے آبی ذخائر کی تعمیر پر بھی کام کر رہی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کچھی کینال، کلری باغار فیڈر، ٹیلی میٹری سسٹم اور دیگر منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ صرف رواں مالی سال میں آبی شعبے کے 34 منصوبوں کے لیے تقریباً 97 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہدف یہ ہے کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تکمیل کے بعد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں سات ملین ایکڑ فٹ سے زائد اضافہ ہو، جبکہ ہزاروں میگاواٹ بجلی بھی پیدا کی جا سکے۔
ان منصوبوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف بڑے ڈیم پاکستان کا آبی بحران حل کر دیں گے؟
شاید نہیں۔
کیونکہ پاکستان کا دوسرا، اور شاید اس سے بھی بڑا آبی ذخیرہ، ہمارے قدموں کے نیچے موجود ہے، اور ہم اسے خاموشی سے خالی کرتے جا رہے ہیں۔
اگر مون سون میں معمول سے 22.6 فیصد زیادہ بارش ہوئی، اگر شمال میں دنیا کے بڑے گلیشیئر موجود ہیں، اور اگر سندھ، جہلم، چناب، راوی اور کابل جیسے دریا آج بھی بہہ رہے ہیں، تو پھر آخر پانی کہاں جا رہا ہے؟
شاید اس کا جواب پانی کی مقدار میں نہیں بلکہ اس کی مینجمنٹ میں پوشیدہ ہے۔
ہم نے پانی استعمال کرنا تو سیکھ لیا، مگر اسے دوبارہ زیرِ زمین محفوظ کرنا نہیں سیکھا۔
ہر سال لاکھوں ایکڑ فٹ زیرِ زمین پانی ٹیوب ویلوں، بورنگ اور واٹر ہائیڈرینٹس کے ذریعے نکال لیا جاتا ہے، مگر اس کی تلافی کے لیے کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 50 ملین ایکڑ فٹ گراؤنڈ واٹر استعمال کرتا ہے۔ انڈس بیسن، جو دنیا کے بڑے زیرِ زمین آبی ذخائر میں شمار ہوتا ہے، شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ جتنا پانی نکالا جا رہا ہے، اتنا واپس قدرتی ذخائر میں شامل نہیں ہو پا رہا۔
اس خطرے کی شدت سمجھنی ہو تو کراچی کی مثال کافی ہے۔
پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی رپورٹ کے مطابق 1997 میں کراچی میں پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے مقام پر زیرِ زمین پانی صرف تین میٹر کی گہرائی پر تھا، مگر آج وہ تقریباً تیس میٹر نیچے جا چکا ہے۔ صرف ستائیس برسوں میں زیرِ زمین پانی دس گنا زیادہ گہرائی میں چلا گیا۔
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اگلے ستائیس برس بعد یہ پانی کہاں ہوگا؟
کراچی کی یہ کہانی اسلام آباد سے بھی مختلف نہیں۔ دارالحکومت میں روزانہ سیکڑوں واٹر ٹینکر سڑکوں پر دوڑتے ہیں، جبکہ چک شہزاد اور گردونواح میں گہری بورنگ کے ذریعے نکالا گیا پانی شہر بھر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ پانی آسمان سے نہیں آتا، بلکہ اسی زمین سے حاصل کیا جاتا ہے جسے دوبارہ بھرنے کے لیے ہم کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو خود سے ایک بنیادی سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہم صرف زمین سے پانی نکالنے کا فن جانتے ہیں، یا اسے دوبارہ زیرِ زمین محفوظ رکھنے کا نظام بھی رکھتے ہیں؟اس سوال کا جواب بھی ہمارے اپنے سرکاری ادارے کے پاس موجود ہے۔
پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی سالانہ رپورٹ بتاتی ہے کہ زیرِ زمین پانی کو دوبارہ بھرنا کوئی ناممکن کام نہیں۔ ادارے نے رین واٹر ہارویسٹنگ اور گراؤنڈ واٹر ری چارج کے تحت پنڈ دادن خان میں پانچ ری چارج ویلز تعمیر کیے، جبکہ فیصل آباد، اسلام آباد، لاہور اور سرگودھا میں بھی ایسے منصوبوں پر کام کیا گیا۔ مون سون کے دوران پنڈ دادن خان اور فیصل آباد میں انہی ری چارج ویلز کے ذریعے بارش کے پانی کو کامیابی سے زیرِ زمین پہنچایا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف دنیا بھر میں رائج ہے بلکہ پاکستان میں بھی مؤثر ثابت ہو چکی ہے۔
اسلام آباد کے کچنار پارک میں بھی ایسا ہی منصوبہ قائم کیا گیا ہے، جہاں بارش کے پانی کو ضائع ہونے کے بجائے فلٹر کرکے زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچایا جاتا ہے۔ اگر ایک پارک میں یہ ممکن ہے تو پورے اسلام آباد میں کیوں نہیں؟ آخر ہر مون سون میں کروڑوں لیٹر پانی چند گھنٹوں میں نالوں کے ذریعے راول ڈیم یا دریائے سواں تک بہہ جاتا ہے، جبکہ اس کا ایک حصہ زیرِ زمین محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک سڑکوں کے کنارے ری چارج ویلز، پارکوں میں سوک اویز، مصنوعی تالاب اور عمارتوں کی چھتوں سے بارش کا پانی جمع کر کے زیرِ زمین آبی ذخائر بحال کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف گراؤنڈ واٹر ری چارج ہوتا ہے بلکہ شہری سیلاب میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔
پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سڑکوں، بجلی، گیس اور سیوریج کی منصوبہ بندی تو کی جاتی ہے، مگر شاید ہی کہیں یہ شرط رکھی جاتی ہو کہ جتنا پانی زیرِ زمین سے نکالا جائے گا، اس کی تلافی کے لیے ری چارج کا نظام بھی موجود ہوگا۔ نتیجتاً بورنگ مسلسل گہری اور زیرِ زمین پانی مسلسل نیچے جا رہا ہے۔
اسلام آباد اس کی واضح مثال ہے۔ چند دہائیاں پہلے یہ شہر قدرتی چشموں، ندی نالوں اور بلند گراؤنڈ واٹر لیول کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج متعدد سیکٹر پانی کے لیے واٹر ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں۔
کراچی کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ ایک طرف زیرِ زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے، دوسری طرف شہر کے پاس طویل ساحلی پٹی موجود ہے۔ دنیا کے کئی ساحلی ممالک بڑے پیمانے پر ڈی سیلینیشن پلانٹس کے ذریعے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنا رہے ہیں، مگر پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی اب بھی محدود پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔ اگر کراچی، گوادر اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں جدید ڈی سیلینیشن پلانٹس نصب کیے جائیں تو نہ صرف لاکھوں افراد کو پینے کا پانی فراہم کیا جا سکتا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ وسائل سے زیادہ ترجیحات کا ہے۔
پانی کا بحران صرف کراچی یا اسلام آباد تک محدود نہیں۔
کوئٹہ میں مقیم سینئر صحافی نور الٰہی بگٹی کے مطابق بلوچستان میں مسئلہ پانی کی کمی سے زیادہ اس کی ناقص مینجمنٹ کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال مون سون کے دوران لاکھوں ایکڑ فٹ بارش کا پانی محفوظ ہونے کے بجائے سیلابی ریلوں کی صورت میں بستیاں، فصلیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ کرتا ہوا آخرکار سمندر میں جا گرتا ہے۔ صرف مکران ڈویژن میں تقریباً تیرہ لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ اگر اسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں یا مقامی آبی ذخائر میں محفوظ کر لیا جائے تو بلوچستان کے کئی اضلاع میں پینے کے پانی اور زراعت کا دیرینہ بحران بڑی حد تک کم ہو سکتا ہے۔
نور الٰہی بگٹی کے مطابق کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی اس قدر نیچے جا چکا ہے کہ کئی مقامات پر بورنگ ایک ہزار فٹ تک پہنچ گئی ہے، اور اب پانی کی تلاش میں پہاڑی علاقوں تک گہری بورنگ کی جا رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف پانی کی قلت بڑھے گی بلکہ قدرتی زیرِ زمین آبی نظام کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
یہ صرف کسی ایک شہر یا صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک انتباہ ہے۔ ایک طرف ہم سیلابی پانی کو آفت سمجھ کر سمندر کی نذر کر دیتے ہیں، دوسری طرف چند ماہ بعد یہی ملک پانی کے ٹینکروں، بورنگ اور سرکاری سپلائی کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنے آبی بحران کو پانی کی قلت نہیں بلکہ پانی کی مینجمنٹ کے بحران کے طور پر دیکھے۔
تحقیق، رپورٹس، ماہرین اور پائلٹ منصوبوں کی کمی نہیں۔ کمی اگر کسی چیز کی ہے تو وہ قومی سطح پر عمل درآمد کی ہے۔
اگر پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز چند ری چارج ویلز کے ذریعے یہ ثابت کر سکتی ہے کہ بارش کے پانی کو دوبارہ زیرِ زمین پہنچایا جا سکتا ہے، تو پھر یہ منصوبے چند شہروں تک محدود کیوں رہیں؟ انہیں ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی، ہر سرکاری عمارت، ہر پارک، ہر اسکول، ہر مسجد اور ہر صنعتی زون کا لازمی حصہ بننا چاہیے۔
اسی طرح تعمیراتی قوانین میں یہ شرط شامل کی جا سکتی ہے کہ ہر نئے رہائشی یا کمرشل منصوبے میں رین واٹر ہارویسٹنگ اور گراؤنڈ واٹر ری چارج کا نظام لازمی ہوگا۔
یہ وقت صرف نئے ڈیم بنانے کا نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے آبی ذخائر، ری چارج ویلز، سوک اویز اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے والے مقامی نظام قائم کرنے کا بھی ہے۔ بڑے ڈیم ملک کو پانی دیتے ہیں، مگر مقامی منصوبے شہروں اور زیرِ زمین آبی ذخائر کو زندگی دیتے ہیں۔ پاکستان کو دونوں کی ضرورت ہے۔
اصل مسئلہ وسائل کا بھی نہیں۔ ہم ہر سال سیلاب کے بعد بحالی، پانی کی فراہمی اور خشک سالی سے نمٹنے پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ اگر انہی وسائل کا ایک حصہ پانی کو محفوظ کرنے اور زیرِ زمین ذخائر بحال کرنے پر صرف کیا جائے تو شاید آنے والی نسلیں اس بحران کا سامنا نہ کریں جس کے دہانے پر آج ہم کھڑے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ، مگر یہ جنگ صرف حکومت نہیں جیت سکتی۔ اگر شہری بھی اپنے گھروں، اسکولوں، مساجد، فیکٹریوں اور عمارتوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زمین میں جذب کرنے کے نظام اپنائیں تو ہر سال لاکھوں لیٹر پانی دوبارہ زیرِ زمین پہنچایا جا سکتا ہے۔
پانی کا تحفظ اب صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکا ہے۔
اگر ہم نے آج بھی زمین سے صرف پانی نکالنے کی پالیسی جاری رکھی اور اسے واپس لوٹانے کا نظام نہ بنایا تو ممکن ہے آنے والی نسلوں کے پاس پانی خریدنے کے لیے پیسہ تو ہو، مگر خریدنے کے لیے پانی نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ تو اپنا وعدہ نبھا رہا ہے۔ آسمان سے پانی آج بھی اتر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بارش ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس پانی کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر پائیں گے، یا اپنی غفلت سے اسے بھی بہا دیں گے؟
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی