پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کسی ملک کا آئین کے مطابق نہ چلنا سنگین جرم ہے، جو بھی چیزیں ہو رہی ہیں وہ آئین کے خلاف ہیں۔ بدھ کو جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں شبلی فراز نے کہا کہ میں نے سینیٹ میں اپنی تقریر میں آئینی نکات اٹھائے ہیں۔ سینیٹ کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین یا صدر کے جو الیکشن ہوئے یہ ایک لحاظ سے غیر آئینی ہیں۔ جن شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے یہ واضح ہے کہ ان شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ یہ جو آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے اس معاملے کو ہم سپریم کورٹ لے کے جا رہے ہیں۔ جب کسی طریقہ کار کے بغیر آئین میں تبدیلیاں کر دی جائیں تو آئین محض کاغذ کا ٹکڑا بن کے رہ جاتا ہے۔ مختلف کیسز کی آج سماعت ہوئی جن میں سے اکثر کیسز کی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانتیں ہو چکی ہیں۔
دریں اثناء اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی وکلا کے خلاف سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیسز میں ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیسز پر سماعت کی، پی ٹی آئی کے لطیف کھوسہ، شبلی فراز، سلمان اکرم راجا اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل صفائی کا موقف تھا کہ ہم نے سی سی ٹی وی کے حصول کیلئے درخواست دی ہے مگر ابھی تک کچھ نہیں ہوا، عدالت سی سی ٹی وی فوٹیجز کے حوالے سے آرڈر دے۔شبلی فراز نے کہا کہ ہم شامل تفتیش ہونا چاہتے ہیں مگر بیان ریکارڈ نہیں ہو رہا۔عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں 5 مئی تک توسیع کر دی، ملزمان کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں 2 مقدمات درج ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی