سول ہسپتال کوئٹہ میں تیزاب گردی واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج 23 ویں روز میں داخل ہوگیا۔ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور جنرل ڈیوٹی سے بائیکاٹ کیا گیا جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملہ دراصل بلوچستان کے نظام صحت پر حملہ ہے، صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ عدم تحفظ کا شکار ہے، حکومت بلوچستان متنازعہ افسر کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کرنے والے 30 سے زائد ڈاکٹرز کو معطل کر دیا ہے ۔اس حوالے سے گرینڈ ڈاکٹرز کانفرنس منعقد کی جارہی ہے جس میں صوبے بھر سے ڈاکٹرز شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا جائے گا ۔آج (30 جون )کو سول ہسپتال کوئٹہ سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ینگ ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا کہ سیکرٹری ہیلتھ اور ایم ایس سول ہسپتال کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جائے، ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی