دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی خطرناک ہے جس کا فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے، سفارت کاری اور مذاکرات ہی مسائل حل کرنے کا واحد موثر راستہ ہے،پاکستان کی امن کوششوں کو عالمی حمایت حاصل ہے،پاکستان اور چین نے اہم مشاورت سے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں ہرمز کی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے ۔دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ وزیراعظم اور نائب وزیر اعظم کے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے ہوئے، پاکستان کی خطے میں قیام امن کے لیے کوششیں جاری ہیں، سعودی عرب ،مصراور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ترجمان نے بتایا کہ حالیہ 4 ملکی مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر غور کیا گیا، اس تنازع کے باعث نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ان مشکل حالات میں مسلم امہ کا اتحاد انتہائی اہم ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے آنے والے وفود کو ممکنہ امریکہ اور ایران مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا، جن کے انعقاد کے لیے اسلام آباد کو ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، اس اقدام کو شریک ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کو کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرے کو روکنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ اس موقع پر بات چیت اور سفارتکاری کو ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ قرار دیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا، اس کے علاوہ چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔انہوں نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ چین انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق یہ دورہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، عالمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گہرے مذاکرات ہوئے، نائب وزیراعظم نے طبی مشورے کے باوجود اس دورے میں شرکت کی، جو پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس دورے کے دوران افغانستان سمیت دیگر علاقائی معاملات بھی زیر بحث آئے، ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین اور پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا، اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلائو کو روکنے اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔مزید برآں جلد از جلد امن مذاکرات کے آغاز، متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، اور مسائل کے حل کے لیے صرف بات چیت اور سفارتکاری کو اپنانے پر اتفاق کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ غیر فوجی اہداف کے تحفظ، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کو بھی دوبارہ تسلیم کیا گیا، جو خطے میں دیرپا امن کے لیے بنیادی اصول ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبے میں ہرمز کی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنمائوں سے رابطے کر کے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ترجمان کے مطابق پانچ نکاتی منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہرمز کی گزرگاہ میں جہازوں، عملے اور تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو ممکن بنایا جائے اور اس اہم سمندری راستے کو جلد از جلد معمول کے مطابق کھولا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنمائو ں سے اہم ٹیلیفونک رابطے بھی کیے۔ 27 مارچ کو کویت کے ولی عہد نے وزیراعظم سے رابطہ کر کے حملوں کی شدید مذمت کی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ کویتی قیادت نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کے کردار کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔اگلے روز وزیراعظم نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں انہیں پاکستان کے امن اقدام کی حمایت سے آگاہ کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ مشترکہ کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسلسل سفارتی سطح پر متحرک ہے اور خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے تسلسل میں کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی رہنماں سے مسلسل رابطے کر کے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا، جبکہ ان اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں پر اپنا موقف پیش کیا اور مذاکرات و ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے اس حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کو بھی تسلیم کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 31 مارچ کو وزیراعظم کو یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں مشرقِ وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو کی، جس میں جی ایس پی پلس کی اہمیت اور آئندہ پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم بھی زیر بحث آیا۔ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اہم عالمی رہنمائوں سے رابطے کیے، جن میں 27 مارچ کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے گفتگو شامل ہے۔
اس دوران دونوں رہنماں نے خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ چین نے کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے تسلسل میں کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی سطح پر بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن میں اقوامِ متحدہ، ترکیہ، قطر، انڈونیشیا اور ایران سمیت اہم ممالک کے ساتھ بات چیت شامل ہے، جبکہ ان کوششوں کو عالمی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 27 مارچ کو ترکیہ کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اسی طرح 28 مارچ کو انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی رابطہ کیا، جس میں عالمی امن و سلامتی پر جاری کشیدگی کے اثرات پر بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کا کردار نہایت اہم ہے اور پاکستان پائیدار امن کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔ سیکریٹری جنرل نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ترجمان نے بتایا کہ اسی روز نائب وزیراعظم نے قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سے بھی گفتگو کی، جبکہ 29 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے خطے کی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، اس دوران کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام رابطے اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس سے قبل کیے گئے، جن کا مقصد مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا تھا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی