i پاکستان

کے پی میں کوئی سرکاری ملازم حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی غیر ملکی سے شادی نہیں کر سکے گا ، نئے قواعد جاریتازترین

April 15, 2026

خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریوں سے شادی کے حوالے سے نئے قواعد جاری کر دئیے ۔ نئے قوانین کے مطابق اب کوئی سرکاری ملازم حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی غیر ملکی سے شادی نہیں کر سکے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ملازم نے اجازت کے بغیر ایسی شادی کی تو اسے سنگین محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس عمل کو پیشہ ورانہ بددیانتی یا مس کنڈکٹ تصور کیا جائے گا جس کی سزا نوکری سے برخاستگی بھی ہو سکتی ہے۔حکومتی قواعد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غیر ملکی سے شادی کی اجازت دینے سے پہلے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے تمام پہلووں کو باریک بینی سے پرکھا جائے گا، دیکھا جائے گا کہ جس غیر ملکی سے شادی کی جا رہی ہے اس کی اصل شہریت کیا ہے اور اس ملک کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں۔نئے قواعد کے مطابق درخواست گزار ملازم کو اپنے ہونے والے جیون ساتھی کے بارے میں مکمل دستاویزات اور کریکٹر کلیئرنس فراہم کرنا ہوگی

جس کے بعد یہ تمام تفصیلات محکمہ داخلہ اور قبائلی امور کو سکیورٹی کلیئرنس کیلئے بھیجی جائیں گی،متعلقہ اداروں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی شادی کی باقاعدہ اجازت دی جائے گی۔ جو سرکاری ملازمین پہلے ہی غیر ملکی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں ان کے کیسز بھی اب دوبارہ جانچ پڑتال کے لیے پیش کیے جائیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی مرحلے پر قومی مفاد یا سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہو رہا،حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی درخواست کو قبول یا مسترد کر سکتی ہے، تاہم خصوصی اور غیر معمولی حالات میں ان قواعد میں کچھ نرمی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملکی مفاد اور حساس معلومات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں، نئے قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ اس پورے عمل میں فیصلہ کن حیثیت رکھے گی اور کسی ایسے شخص کو خاندان کا حصہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے ملکی سالمیت کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی