تحریر: آصفہ زہرہ
پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم اور تاریخی اخراج میں صرف 0.4 فیصد ہے۔ اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے ساتھ ساتھ ایک اور بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے: فضائی آلودگی۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک موسمیاتی خطرات کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ ہے، جبکہ فضائی آلودگی شہری آبادی کے لیے ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ آٸ کیو اہیر کی عالمی فضائی معیار رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے آلودہ ترین ممالک میں شامل رہا، جبکہ لاہور، فیصل آباد، ملتان، کراچی، راولپنڈی اور پشاور متعدد مواقع پر خطرناک فضائی آلودگی کے باعث عالمی فہرستوں میں نمایاں رہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں PM2.5 آلودگی کی اوسط سطح 67.3 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ معیار سے تقریباً 13 گنا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ صحت، معیشت اور پیداواری صلاحیت کا بھی مسئلہ بن چکی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے شجرکاری مہمات کو موسمیاتی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق گرین پاکستان پروگرام اور دیگر منصوبوں کے تحت تقریباً 2.26 ارب پودے لگانے، بحال کرنے یا تقسیم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ملک میں جنگلات کا کل رقبہ تقریباً 4.7 فیصد بتایا گیا ہے، جبکہ ہر سال تقریباً 11 ہزار ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اربوں پودے لگانے سے فضائی آلودگی کم ہوئی؟ کیا شہریوں کو صاف ہوا ملی؟ اور کیا ان پودوں کی بقا کی شرح معلوم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ درخت لگانا اور جنگل اگانا دو مختلف چیزیں ہیں۔ پودے لگانے کی تعداد ایک انتظامی کامیابی ہو سکتی ہے، مگر ماحولیاتی کامیابی کا پیمانہ ان پودوں کا زندہ رہنا اور مکمل درخت بننا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر منصوبوں میں عوامی سطح پر ایسے اعدادوشمار دستیاب نہیں کہ لگائے گئے پودوں میں سے کتنے آج بھی موجود ہیں اور کتنے حقیقی طور پر کاربن جذب کر رہے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، لیکن اس کے باوجود جنگلات اور مستقل سبز رقبے کا تناسب انتہائی کم ہے۔ عالمی سطح پر جنگلات کا اوسط تناسب تقریباً 31 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 4.7 فیصد کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کو صرف شجرکاری مہمات نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر جنگلاتی بحالی، قدرتی جنگلات کے تحفظ اور شہری سبز علاقوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔
فضائی آلودگی کی وجوہات بھی صرف درختوں کی کمی تک محدود نہیں۔ پرانی گاڑیاں، ناقص ایندھن، اینٹوں کے بھٹے، صنعتی دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا، ڈیزل جنریٹرز، تعمیراتی سرگرمیاں اور بے ہنگم شہری پھیلاؤ آلودگی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف شہروں میں ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں کی توسیع، نئی ہاؤسنگ سکیموں اور کمرشل تعمیرات کے باعث سبز رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کئی اہم گرین اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں گرین پاکستان پروگرام، ٹین بلین ٹری سونامی، پاکستان کلائمیٹ پراسپرٹی پلان، پاکستان گرین ٹیکسانومی، کاربن مارکیٹ فریم ورک، الیکٹرک وہیکل پالیسی اور مختلف صوبائی اینٹی اسموگ پروگرام شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد موسمیاتی موافقت، کاربن میں کمی اور سبز سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ توجہ صرف شجرکاری کے اعلانات سے ہٹ کر نتائج پر مرکوز کی جائے۔ حکومت کو ہر شجرکاری منصوبے کی جیو ٹیگنگ، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور سروائیول ریٹ عوام کے سامنے لانا چاہیے۔ جس طرح مالیاتی آڈٹ ہوتے ہیں، اسی طرح شجرکاری منصوبوں کا ماحولیاتی آڈٹ بھی ہونا چاہیے۔اسی طرح بڑے صنعتی اداروں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ چینز اور کمرشل منصوبوں کے لیے سالانہ کاربن آڈٹ لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔
جو ادارے زیادہ اخراج پیدا کریں، انہیں کاربن آف سیٹ پروگرامز، شہری جنگلات، یا کاربن کریڈٹس میں سرمایہ کاری کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ نجی شعبے کو بھی صرف سی ایس آر سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے قومی گرین اہداف سے جوڑنا ہوگا۔ اگر کمپنیوں کو کاربن کریڈٹ مارکیٹ، گرین بانڈز اور ماحولیاتی مراعات کے ذریعے شراکت دار بنایا جائے تو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل کامیابی کا پیمانہ اب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے پودے لگائے گئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے درخت زندہ رہے، کتنی کاربن جذب ہوئی، کتنے شہروں میں فضائی معیار بہتر ہوا اور کتنے شہریوں کو صاف ہوا میسر آئی۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار کم ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات کا شکار سب سے زیادہ ممالک میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کو علامتی شجرکاری سے آگے بڑھ کر سائنسی نگرانی، کاربن مینجمنٹ، جنگلاتی تحفظ، صاف توانائی اور فضائی معیار کی بہتری پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آخرکار شہریوں کو اعدادوشمار نہیں، بلکہ سانس لینے کے لیے صاف ہوا درکار ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی