i بین اقوامی

ہم نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر دیانت داری سے بات کر رہے ہیں، ابراہیم عزیزیتازترین

June 09, 2026

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر دیانت داری سے بات کر رہے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کو جنگ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، امریکا اور امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں۔ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکا مذاکرات کے اصولوں کی پابندی کرے تو ایران کو کوئی مسئلہ نہیں، ایران کو سنجیدہ ارادہ نظر نہیں آتا جس میں کوئی قابلِ عمل فریم ورک تشکیل پاسکے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ اس کی ایک واضح اور نمایاں مثال ہے، یورینیم افزودگی اور جوہری معاملات پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اس مرحلے پر ان مسائل پر مذاکرات مقصود ہی نہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہوگا؟ کہ سوال پر ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہونا دوسری طرف کے طرزِ عمل پر ہے، یہی رویہ جاری رہا تو جواب نفی میں ہے، کیونکہ ہمیں بالکل اعتماد نہیں۔انہوں نے کہا کہ اعتماد کے بغیر مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں، مذاکرات کا تسلسل ممکن نہ ہو تو فطری طور پر کوئی نتیجہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی طے کردہ شرائط پوری کی جائیں، قومی مفادات، اقتصادی معاملات اور لبنان کے مسئلے میں عملی پیش رفت نظر آئے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں، ایسا نہ ہوا تو ایران مزاحمتی محاذ، اس کے ارکان اور بالخصوص لبنان کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی